پٹنہ میں سوگ، حکومت پر غفلت کا الزام

آخری وقت اشاعت:  منگل 20 نومبر 2012 ,‭ 04:08 GMT 09:08 PST
پٹنہ بھگدڑ

حادثہ اس وقت پیش آیا جب گھاٹ کو جانے والا عارضی پل ٹوٹ گیا

بھارت کی شمالی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ہندوؤں کے تہوار چھٹ پوجا کے دوران بھگدڑ سے چودہ افراد کی ہلاکت کے بعد شہر سوگوار ہے جبکہ حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

یہ حادثہ پیر کی شام اس وقت پیش آیا تھا جب بڑی تعداد میں لوگ شام کی پوجا کے لیےگنگا گھاٹ پر پہنچے تھے کہ گھاٹ تک جانے والا عارضی پل ٹوٹ گیا جس سے بھگدڑ مچ گئی۔

بہار سے بی بی سی کے نامہ نگار منی کانت ٹھاکر نے بتایا ہےکہ بھگدڑ میں اب تک نو بچوں کی موت کی تصدیق ہوئی ہے اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مقامی سیاسی جماعتوں نے اس واقعے کی تحقیقات سی بی آئی سے کروانے کا مطالبہ کیا ہے تاہم حکومت کی جانب سے سیکرٹری داخلہ کو تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

بہار کے وزیراعلی نتیش کمار نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کو معاوضہ دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق جہاں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے واقعہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں سے ہمدردی ظاہر کی ہے وہیں کانگریس کی ریاستی اکائی کے صدر چودھری محبوب علی قیصر اور پارٹی ترجمان ایچ كے ورما نے واقعہ کے لیے بہار حکومت کو قصوروار ٹھہرایا ہے.

انہوں نے واقعے کی تحقیقات مرکزی تحقیقاتی ادارے سے کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ نتیش کمار کو اخلاقی طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔

راشٹریہ جنتا دل کے رہنما لالو پرساد یادو نے بھی واقعہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کا کہ نتیش کمار کی حکومت نے پختہ انتظام کی ضمانت دی تھی اور کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی یہ حادثہ ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ،’نتیش کمار نے لوگوں کو رام بھروسے چھوڑ دیا‘۔

تاہم وزیراعلیٰ نتیش کمار کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اور اس میں جانی نقصان افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثہ پل ٹوٹنے سے نہیں ہوا بلکہ بھیڑ کا راستہ دوسرے پل کی طرف کر دینے سے بھگدڑ مچی۔

انہوں نے کہا، ’بھگدڑ کیوں مچی اور بجلی کے تار کے گرنے کی بات کیسے سامنے آئی اس کی تفتیش ریاست کے داخلہ سیکرٹری سے کرائی جا رہی ہے‘۔

نتیش کمار نے لوگوں سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی بھی اپیل کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔