تعطیلات سے محروم بھارتی شہری

آخری وقت اشاعت:  منگل 20 نومبر 2012 ,‭ 09:34 GMT 14:34 PST

بھارتی ملازم کئی وجوہات کے سبب چھٹی نہیں لیتے

ایک تازہ جائزے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا کے جن ممالک میں لوگ چھٹیاں نہیں لیتے ان میں بھارت بھی آگے ہے اور عالمی سطح پر اس کا چوتھا نمبر ہے۔

چھٹیوں کے لیے سروس مہیا کرنے والے ایک ادارے ایکس پیڈیا نے اس سے متعلق ایک نیا سروے کیا ہے۔

اس جائزے کے مطابق تعطیلات کے دوران کام کرنے میں بھارت اوّل نمبر پر آتا ہے اور بیشتر بھارتی کام آنے پر یا تو اپنی چھٹیاں منسوخ کر دیتے یا پھر چھٹی کے دنوں میں بھی کام کرتے رہتے ہیں۔

یہی عادتیں اور اطوار بھارت کو تعطیلات سے محروم ممالک کی فہرست میں چوتھے مقام پر لاتی ہیں۔

حالانکہ جائزے سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ تقریبا دوتہائی افسران اپنے ملازمین کی چھٹیوں کے منصوبوں کو منظوری دیتے ہیں اور اس شعبہ میں بھی بھارت عالمی سطح پر چوتھے مقام پر ہے۔

اس جائزے کے مطابق ملازمین عام طور پر چھٹیوں کو جمع کرتے رہتے ہیں، سفر پر جانے والے ساتھیوں سے بھی کوارڈینیشن نہیں کر پاتے، کچھ پیسوں کے لیے چھٹیاں نہیں لیتے، کام کا دباؤ رہتا ہے اور بہت تو دفتر میں اپنی غیر موجودگي میں ہونے والی ممکنہ اہم پیش رفت سے خوفزدہ رہتے ہیں۔

سروے کے مطابق یہی وہ اہم وجوہات ہیں جس کے سبب بھارتی چھٹی پر نہیں جاتے اور اس طرح چھٹیوں سے محروم ممالک کی فہرست میں بھارت چوتھے نمبر پر ہے۔

اس جائزے کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران چھٹیاں لینے میں پہلے سے مزید کمی آئی ہے اور سال دو ہزار گيارہ میں اگر اوسطاً پچيس دن کی چھٹی لی تھی تو اس برس لوگوں نے اوسطا بیس روز کی چھٹیاں لیں۔

چھٹیوں کے لیے عالمی سطح پر فرانس کا پہلا نمبر ہے جہاں اوسطا لوگوں کو سالانہ تیس روز کی چھٹی ملتی ہے جبکہ اس میں سب سے نیچے جاپان ہے جہاں کم سے کم پانچ دن کی چھٹی ملتی ہے۔

"ملازمین عام طور پر چھٹیوں کو جمع کرتے رہتے ہیں، سفر پر جانے والے ساتھیوں سے بھی کوارڈینیشن نہیں کر پاتے، کچھ پیسوں کے لیے چھٹیاں نہیں لیتے، کام کا دباؤ رہتا ہے اور بہت تو دفتر میں اپنی غیر موجودگي میں ہونے والی ممکنہ اہم پیش رفت سے خوفزدہ رہتے ہیں۔"

اس فہرست میں امریکہ اور میکسیکو کے ملازمین زیادہ خوش قسمت نہیں جہاں سالانہ صرف دس روز کی تعطیلات دی جاتی ہیں۔

یورپ اس فہرست میں سب سے بہتر ہے جہاں سپین میں بھی اوسطا تیس چھٹیاں دی جاتی ہیں اور رپورٹ کے مطابق ان ممالک میں لوگ ان کا بھر پور استعمال کرتے ہیں۔

جرمنی میں اٹھائیس روز جبکہ برطانیہ، ناروے اور سویڈین میں لوگ پچيس پچیس دن کی چھٹی پاتے ہیں اور ان کا پورا استعمال کرتے ہیں۔

اس کے برعکس ایشیائی ممالک کے لوگ کم چھٹیاں لیتے ہیں اور ہفتے میں زیادہ دن کام کرتے ہیں۔

بائیس ممالک میں کیےگئے سروے کے مطابق ایشیائی ممالک کے لوگ اوسطاً ایک ہفتے میں چوالیس گھنٹے جبکہ امریکی شہری چالیس گھنٹے کام کرتے ہیں۔

ایکس پیڈيا کے جنرل مینیجر جان موری کا کہنا ہے کہ وہ ہر برس یہ سروے کرتے ہیں۔’ہمیں اس بات پر حیرت ہے کہ مختلف ملک کے لوگ اپنی چھٹیوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔