بھارت: دلی دھماکہ کیس، دو ملزمان بری

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 22 نومبر 2012 ,‭ 14:12 GMT 19:12 PST

پولیس پر مسلمانوں کی گرفتاری کے تعلق سے جانبداری کے الزامات لگتے رہے ہیں

بھارت کی دلّی ہائی کورٹ نے بم دھماکے کے الزام میں سزائے موت پانے والے دو ملزمان کو بری کر دیا ہے۔

بھارت کے دارالحکومت دلی میں بم دھماکے کے الزام میں ان دونوں ملزمان کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ایک بار پھر پولیس کے تفتیش کرنے کے رویے پر بھی نکتہ چینی کی ہے۔

دلی کے ایک ٹرائل کورٹ نے سنہ انیس سو چھیانوے میں لاجپت نگر مارکیٹ میں ہونے والے بم دھماکے کے سلسلے میں چار افراد کو موت کی سزا سنائي تھی۔

دلی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے ان میں سے محمد علی بھٹ اور مرزا نثار حسین کو بے گناہ قرار دے کر بری کر دیا ہے۔

سزائے موت پانے والے دیگر دو ملزمان محمد نوشاد اور جاوید احمد خان کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

"چانچ کے عمل میں شہادت اور ثبوت کے لیے کم ترین درجہ کا معیار بھی نہیں اپنایا۔ اس نے اس معاملے میں سنجیدگی نہیں دکھائي۔ شناختی کی لیے پریڈ نہیں کرائي گئی، اہم گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کیےگئے یہاں تک کہ دلی ڈائری میں اس کیس کا اندراج تک نہیں ہوا۔"

عدالت نے بم دھماکے کی تفتیش میں سنگین کوتاہیوں کے لیے دلی پولیس کی سرزنش کی اور کہا کہ اس نے چانچ کے عمل میں شہادت اور ثبوت کے لیے کم ترین درجے کا معیار بھی نہیں اپنایا۔ اس نے اس معاملے میں سنجیدگی نہیں دکھائي۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ شناخت کی لیے پریڈ نہیں کرائي گئی، اہم گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کیےگئے یہاں تک کہ دلی ڈائری میں اس کیس کا اندراج تک نہیں کیا گيا۔

لاجپت نگر بازار میں اکیس مئی سنہ انیس سو چھیانوئے کو کار بم دھماکہ ہوا تھا۔

اس کے لیے پولیس نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی تنظیم جے کے ایل سے وابستہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

دو ہزار دس میں دلی کے ایک ٹرائل کورٹ نے ان چاروں افراد کو موت کی سزا سنائی تھی جبکہ دو دیگر ملزم فاروق احمد خان اور فریدہ ڈار کو سات سات برس قید کی سزا سنائي تھی۔

لاجپت نگر بم دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔