اروند کیجروال نے پارٹی کے نام کا اعلان کردیا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 24 نومبر 2012 ,‭ 18:00 GMT 23:00 PST
اروند کیجریوال

اروند کیجروال نے سماجی کارکن اننا ہزارے کے ساتھ بدعنوانی کی تحریک کا آغاز کیا تھا لیکن بعد میں اننا ہزارے نے اروند کیجروال سے علیحدگی اختیار کرلی تھی

بھارت میں ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ کے نام سے بدعنوانی کی تحریک چلانے والے سماجی کارکن اروند کیجروال نے اپنی سیاسی پارٹی کا نام ’عام آدمی‘ پارٹی رکھا ہے۔

سنیچر کو دلی میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ میٹنگ کے بعد اروند کیجروال نے اپنی سیاسی پارٹی کے نام کا اعلان کیا ہے۔

اس اجلاس میں تقریباً تین سو ممبران نے شرکت کی۔

غور طلب ہے کہ کانگریس نے گزشتہ عام انتخابات میں ’ کانگریس کا ہاتھ، عام آدمی کے ساتھ‘ کا نعرہ دیا تھا اور عام آدمی کے لئے مختلف منصوبوں کو شروع کرنے کی بنیاد پر ہی الیکشن لڑا تھا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اپنی پارٹی کو ’عام آدمی‘ نام دے کر اروند کیجریوال نے کانگریس کے ’عام آدمی کے نعرے‘ پر براہ راست مقابلہ دینے کی کوشش کی ہے۔

اروند کیجروال کا کہنا ہے کہ یہ تو آئندہ عام انتخابات کے نتائج سے پتہ چلے گا کہ کانگریس کس حد تک عام آدمی کے ساتھ ہے اور عام آدمی اس کی پالییسوں سے کتنا خوش ہے۔

سنیچر کو میٹنگ کے بعد اروند کیجروال نے کہا کہ عوام کا مطالبہ تھامرکزی حکومت ایسا قانون منظور کرے کہ اگر کوئی بدعنوانی کرے تو اسے جیل جانا پڑے، اس کی جائیداد ضبط کی جائے لیکن یہ کانگریس نہیں مانی۔’ساری پارٹیاں پردے کے پیچھے ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔ جب تک یہ سیاست نہیں بدلےگی تب تک ہمیں بدعنوانی سے نجات نہیں مل سکتی۔ اس لئے ہم نے مجبوری میں عام آدمی پارٹی کی تشکیل کی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا’ ہم سیاستدان نہیں ہیں۔ ہمیں سیاست نہیں آتی ہے۔ ہم اس ملک کے عام آدمی ہیں۔ انتخابات میں عام آدمی ووٹ ڈالے گا، عام آدمی پارٹی کی تشہیر کرے گا اور عام آدمی ہی منتخب ہوکر آئے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ہمیں حق کے طور پر انصاف ملنا چاہیے۔آج صورتحال یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس پیسہ ہے اور اچھا وکیل مل جائے یا پھر کوئی وکیل آپ پر رحم کرلے تو آپ کو انصاف مل سکتا ہے۔ ہمیں یہ سسٹم تبدیل کرنا ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان پارٹی کو چندہ دینے والوں اور اس کے اخراجات کی فہرست ویب سائٹ پر ڈالی جائے گی اور ہر ریاست اور ہر ضلع میں اہلکار ہوں گے۔ جو پارٹی کے اخراجات کا آزادانہ طور پر جائزہ لے گیں۔

واضح رہے کہ اروند کیجروال نے سماجی کارکن اننا ہزارے کے ساتھ مل کر بدعنوانی کی تحریک کا آغاز کیا تھا لیکن اب وہ انا ہزارے سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں۔

سیاسی جماعت بنانے یا نہ بنانے کے حوالے سے انّا ہزارے اور اروند کیجری وال کے درمیان اختلافات تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔