بھارت: فیس بک گرفتاریاں، پولیس اہلکار معطل

آخری وقت اشاعت:  منگل 27 نومبر 2012 ,‭ 15:41 GMT 20:41 PST

شاہین ڈھانڈا اور ان کی دوست نے بتایا کہ گرفتاری کی وجہ سے وہ کافی ڈر گئی تھیں

بھارت میں فیس بک پر تبصرہ کرنے کے الزام میں دو خواتین کو گرفتار کرنے والے دو سینئر پولیس اہل کاروں کو معطل کیا گیا ہے۔ایک خاتون نے بال ٹھاکرے کی موت کے بعد فیس بک پر تبصرہ کیا تھا جبکہ دوسری خاتون نے اس تبصرے کو ’لائک‘ یا پسند کیا تھا۔

مہاراشٹر کے وزیر داخلہ نے کہا کہ دنوں پولیس اہل کارروں نے حکم عدولی کی تھی۔ اس کیس کے جج کو بھی دوسری جگہ ٹرانسفر کیا گیا ہے۔

بال ٹھاکرے کی موت کے بعد بھارت کا تجارتی مرکز ممبئی ہفتے اور اتوار کو تقریباً مکمل طور پر بند رہا تھا اور سوشل میڈیا پر اس بارے میں طرح طرح کے تبصرے کیے جا رہے تھے۔

شاہین ڈھاڈا نے اپنے فیس بک صفحے پر لکھا تھا کہ ٹھاکرے جیسے لوگ ہر روز پیدا ہوتے اور مرتے ہیں اور اس وجہ سے ممبئی کا بند ہونا کہاں تک مناسب ہے؟ جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔

شاہین ڈھاڈا نے اپنے فیس بک صفحے پر لکھا تھا کہ ٹھاکرے جیسے لوگ ہر روز پیدا ہوتے اور مرتے ہیں اور اس وجہ سے ممبئی کا بند ہونا کہاں تک مناسب ہے؟ جس کے بعد انھیں گرفتار کیا گیا۔شاہین کی دوست رینو سرین واسان نے اس تبصرہ کو لائک جس کے بعد انھیں بھی گرفتار کر لیا گیا

شاہین کی دوست رینو سرین واسان نے اس تبصرہ کو لائک جس کے بعد انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔

گرفتاریوں پر شدید تنقید کی گئی کہ آزادی اظہار کو پامال کیا گیا جس کے بعد ان دونوں خواتین کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

ناقدین نے حکومت پر اختیارات کے غلط استعمال کا الزام لگایا ہے۔

خواتین نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتاری کی وجہ سے وہ کافی ڈر گئی تھیں۔

مہاراشٹر کے وزیر داخلہ پی آر پٹیل نے کہا کہ ریاستی حکومت نے دونوں اہلکاروں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ انہوں نےسی این ین، آ بی این کو بتایا کہ ’پولیس سپرنٹنڈنٹ اور سب انسپکٹر کو احکامات نہ ماننے کی وجہ سے معطل کردیا گیا ہے۔‘

ان اہلکاروں کو اس وقت معطل کیا گیا جب پولیس کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ گرفتاریاں غیر منصفانہ تھیں۔

ممبئی میں ہائی کورٹ نے پیر کو اس کیس میں مجسٹریٹ رام چندرا باگاڈی کو بھی دوسری جگہ ٹرانسفر کیا۔ مجسٹریٹ نے دونوں خواتین کو حکم دیا تھا کہ ضمانت پر رہا ہونے سے پہلے دونوں پندر پندرہ ہزار روپے جمع کرائے۔

تاہم عدالت نے مجسٹریٹ کی تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی لیکن مقامی میڈیا نے ان کی تبدیلی کو خواتین کی گرفتاری کے ساتھ منسلک کیا ہے۔

شاہین ڈھانڈا اور سرین وسان کو دشمنی کی فضاء پیدا کرنے، نفرت پھیلانے اور مخلتف طبقات کے درمیان بدمزگی پیدا کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ ان پر انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا۔

واضح رہے کہ بھارت میں انٹرنیٹ پر اظہار رائے پر گرفتاری کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔

ابھی کچھ مہینوں قبل ممبئی میں ہی اسیم ترویدی کو بدعنوانی کے خلاف ایک کارٹون بنانے پر سنگین الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں حکومت اور ممبئی پولیس کی زبردست تنقید ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ جنوبی ہندوستان کے شہر پونڈی چیری میں رہنے والی ایک تاجر روی شری نواسن کو وزیرخزانہ پی چدامبرم کے بیٹے کے بارے میں آراء دینے پر گرفتار کیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔