ایف ڈی آئی پر ووٹنگ کے تحت بحث پر اتفاق

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 29 نومبر 2012 ,‭ 15:32 GMT 20:32 PST
بھارتی پارلیمان

لوک سبھا میں گزشتہ کئي روز سے ہنگامہ جاری تھی

بھارتی حکومت نے ریٹیل سیکٹر میں بیرونی سرمایہ کاری پر پارلیمان میں ووٹنگ کے تحت بحث کرانے پر اتفاق کر لیا ہے جس سے کئي روز سے جاری تعطل ختم ہوگيا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سبھی جماعتوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کے بعد اس مسئلے پر چار اور پانچ دسمبر کے درمیان بحث کرانے کا فیصلہ کیا گيا۔

خوردہ بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کے مسئلے پر شدیداختلافات کے باعث زبردست ہنگامہ آرائی جاری تھی جس کے سبب سرمائی اجلاس کئي روز سے معطل تھا۔

لیکن حکومت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے کو تسلیم کرنے کے بعد جمعرات سے باقاعدہ اجلاس شروع ہوا ہے۔

جمعرات کی صبح ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کی سپیکر میرا کمار نے کہا کہ اس مسئلے پر رول ایک سو اڑتالیس، جس کے تحت ووٹٹنگ ضروری ہے، کے مطابق بحث کو تسلیم کر لیا گيا ہے۔

ان کا کہنا تھا '' خوردہ بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کے مسئلے پر رول 108 کے تحت بحث کے لیے ہمیں تیس نوٹس ملے ہیں اور ہم نے اس پر بحث کو منظوری دیدی ہے۔''

اس سے قبل حکومت اس مسئلے پر بحث کے لیے تو تیار تھی لیکن ووٹ کے حق میں نہیں تھی جبکہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ کے مطالبے پر مصر تھیں۔

اسی سبب سے اب تک کے سرمائی اجلاس کی کارروائی میں کوئی کام کاج نہیں ہو سکا ہے اور ہر روز ہنگامے کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا جاتا تھا۔

"خوردہ بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کے مسئلے پر رول 108 کے تحت بحث کے لیے ہمیں تیس نوٹس ملے ہیں اور ہم نے اس پر بحث کو منظوری دیدی ہے۔"

سپیکر میرا کمار

حکومت کی بعض اتحادی جماعتیں بھی ریٹیئل سیکٹر میں بیرونی سرمایہ کاری کی مخالف ہیں اس لیے حکومت ووٹ سے بچ رہی تھی۔ لیک اطلاعات کے مطابق سبکی سے بچنے کے لیے اس نے اتحادیوں کو منا لیا ہے۔

لیکن ملائم سنگھ کی جماعت سماجوادی پارٹی کا کہنا ہے کہ لوک سبھا میں تو وہ حکومت کا ساتھ دیگي لیکن ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں وہ حکومت کے خلاف ووٹ کریگي۔

راجیہ سبھا میں حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے اس لیے یہ ممکن ہے کہ اسے شرمندگی اٹھانا پڑجائے لیکن چونکہ اس کا تعلق مالی بل سے نہیں ہے اس لیے حکومت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔

حکومت نے گزشتہ ماہ خوردہ بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کی اجازت دی تھی۔ لیکن حکومت کی بعض اتحادی اور اپوزیشن پارٹیاں اس کی سخت مخالف ہیں۔

حکومت کی اتحادی سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور ڈی ایم کے، حکومت کے موقف کی حامی نہیں ہیں لیکن وہ حکومت کو گرانا بھی نہیں چاہتی اس لیے حکومت کی حمایت کا وعدہ کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔