جوتے پر عبارت: کشمیر میں مظاہرے

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 29 نومبر 2012 ,‭ 07:03 GMT 12:03 PST

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں چینی ساخت کے جوتے پر تائیوانی زبان میں ’علی‘ سے ملتی جلتی عبارت کا انکشاف ہوتے ہی کئی علاقوں میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد نے مظاہرے کیے۔

ان مظاہروں کے دوران سرینگر کے حاول علاقے میں شیعہ نوجوانوں اور سنّی باشندوں کے درمیان تصادم ہوا۔ پولیس کے افسر نے بتایا کہ دونوں گروہوں نے ایک دوسرے پر شدید پتھراؤ کیا۔

اس تصادم کے بعد سرینگر اور دوسرے قصبوں میں کشیدگی پھیل گئی جس کے بعد حکام نے کرفیو کا اعلان کردیا۔

ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ کرفیو سے عام زندگی معطل ہوگئی ہے اور یونیورسٹی اور کالجوں کے تمام امتحانات بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔ سرکاری دفتر، تعلیمی اور کاروباری ادارے بند ہیں۔

پرانے سرینگر کے شہریوں نے بی بی سی کو بتایا ’جن علاقوں میں تصادم نہیں تھا، وہاں بھی پابندیاں ہیں۔ ہمیں صبح کی نماز کے لیے جانے نہیں دیا گیا۔‘

واضح رہے وسطی کشمیر کے ماگام علاقے میں ایک شہری نے جوتا خریدا جس پر ایک عبارت لکھی تھی، جسے باریک بینی سے پڑھنے پر لگتا ہے کہ یہ ’علی‘ لکھا ہے۔ ماگام کے ایک سرپنچ نے بتایا کہ دکاندار کے مطابق یہ جوتا چینی ساخت کا ہے اور اس تائیوانی زبان میں برانڈ کا نام ہے۔

لیکن شیعہ آبادی کے ساتھ علیحدگی پسند رہنماؤں نے بھی اس انکشاف پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میر واعظ عمر فاروق، مولانا عباس انصاری، مولانا افتخار انصاری، آغا سّید حسن اور دوسرے رہنماؤں نے اس واقعہ کو ’مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی سازش‘ قرار دیا ہے۔

جموں کشمیر میں شیعہ آبادی کا تناسب بہت کم ہے اور دونوں فرقوں کے درمیان رواداری اور بھائی چارہ کی دیرینہ روایات موجود ہیں۔

اُنیس سو نوّے میں شیعہ تنظیموں نے بھی بھارت کے خلاف مسلح مزاحمت کے لیے ’حزب المومنین‘ نام سے ایک عسکری گروپ قائم کیا تھا۔ اور شیعہ رہنما مولانا عباس انصاری پانچ سال تک علیحدگی پسند گروپوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

علیحدگی پسند رہنما محمد یاسین ملک ہر سال عاشورہ کے روز جلوس میں شرکت کرتے ہیں۔ ان روایات کا حوالہ دے کر حریت کانفرنس کے رہنما نعیم احمد خان نے اپنے بیان میں کہا کہ کشمیر میں شیعہ سنّی کشیدگی ہے۔

لیکن پچھلے چند سال سے کچھ مقامات پر تصادم ہونے لگے ہیں۔ اکثر علیحدگی پسند رہنما اس صورتحال کو ’ایجنسیوں کی کارستانی‘ قرار دے رہے ہیں۔

دریں اثنا کشمیر کے جنوبی قصبہ بیج بِہاڑہ میں نامعلوم افراد نے نیم فوجی عملہ سی آر پی ایف کی ایک گاڑی پر بم پھینکا۔ اس واقعہ میں ایک سی آر پی ایف اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا۔ ایک راہگیر کو بھی زخمی حالات میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔