’القاعدہ کو انڈیا میں رنگروٹ کیوں نہیں ملتے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 دسمبر 2012 ,‭ 15:35 GMT 20:35 PST

حبیبہ اسماعیل خان اُس دن کو نہیں بھول پاتیں جب اُن کے اٹھارہ سالہ بیٹے نے خوردو نوش کی اشیاء لینے کے لیےگھر سے باہر قدم رکھا۔ وہ دن تھا جب بابری مسجد کو مسمار کیے جانے کے بعد انڈیا میں ہندو مسلم فسادات عروج پر تھے۔

ہندؤوں کے ایک گروہ نے حبیبہ اسماعیل کے بیٹے کو قابو کر لیا اور وہ بھی اُن چھ سو مسلمانوں کی فہرست میں شامل ہوگیا جو اُس دن ہندو شدت پسندوں کا نشانہ بنے۔ اس روز دو سو پچھہتر ہندو بھی مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے۔

رواں ہفتے بابری مسجد کی تباہی کو دو عشرے پورے ہو چکے ہیں۔ دو عشرے گزرنے کے باوجود مسلمان آج بھی اٹھارہ کروڑ لوگوں پر مشتمل بھارت کی ایک ایسی اقلیت ہیں جو زندگی کے ہر شعبے میں دوسروں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

لیکن ایک ایسے وقت جب بھارت کا پڑوسی ملک پاکستان شدت پسندی کے گرداب میں پھنس چکا ہے انڈیا کو شدت پسندی جیسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔

آج تک کوئی بھارتی باشندہ القاعدہ یا طالبان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے افغانستان میں نہیں پایا گیا۔ حتیٰ کہ کوئی بھارتی مسلمان کشمیر میں مسلمان شدت پسندوں کی مدد کے لیے بھی نہیں پہنچ پایا۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟

بھارتی سرکاری اعداو شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بھارتی مسلمان ہر شعبے میں پیچھے ہیں۔ بھارتی مسلمان آبادی کا چودہ سے پندرہ فیصد ہیں لیکن سرکاری نوکریوں میں ان کا حصہ صرف چار فیصد ہے۔

بھارت کی فارن انٹیلیجنس سروس سے تعلق رکھنے والے وکرم سود کا خیال ہے کہ شدت پسندی بھارت میں جڑیں نہیں پکڑ سکی ہے۔

بھارت میں انڈین مجاہدین نامی تنظیم پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ بعض بم دھماکوں کے پیچھے تھی لیکن بھارتی زمین پر شدت پسندوں کی سب سے بڑی کارروائی کے پیچھے پاکستانی شدت پسندوں کا ہی ہاتھ تھا۔

بھارتی مسلمان دنیا میں مسلمانوں کی کُل تعداد کا دس فیصد حصہ ہیں، مگر القاعدہ بھارت سے رنگروٹ بھرتی کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

مبصرین کے مطابق بھارت میں حالات کسی وقت بھی خراب ہو سکتے ہیں۔

جاگشواری ممبئی کا ایک بڑا مضافاتی علاقہ ہے۔ جاگشواری میں گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ لوگوں کو ان گلیوں سے گزرنے کے لیے قطار بنا کر چلنا پڑتا ہے۔

بھارت میں مشترکہ آبادی والے علاقے اب ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔جاگشواری میں ایک سڑک ہندو علاقے اور مسلمان علاقوں کو جدا کرتی ہے۔ مسلمان علاقے کو چھوٹا پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ دوسرے طرف بھارت ہے۔

جاگشواری میں رہائش پذیر مسلمان اپنے مستقبل کے حوالے سے ناامیدی کا شکار ہیں۔

حبیبہ اسماعیل کے بیٹے کو فسادات کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا۔

حبیبہ اسماعیل کی پڑوسی مارزینہ کہتی ہیں اچھی نوکریاں صرف ہندوؤں کو ملتی ہیں۔ مارزینہ جاگشواری میں ایک دو کمروں کے گھر میں عدم تحفظ کی وجہ سے منتقل ہوئی ہیں۔

بھارتی سرکاری اعداو شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بھارتی مسلمان ہر شعبے میں پیچھے ہیں۔ بھارتی مسلمان آبادی کا چودہ سے پندرہ فیصد ہیں لیکن سرکاری نوکریوں میں ان کا حصہ صرف چار فیصد ہے۔

بھارتی فلمی صنعت میں بعض مسلمانوں نے بہت نام بنایا ہے۔ شاہ رخ خان، سلمان خان، عامر خان ان میں سے کچھ نام ہیں۔ لیکن یہ تمام اداکار اپنے مسلمان ہونے کا زیادہ پرچار نہیں کرتے۔

بھارت کی فلمی صنعت کا ایک اور بڑا نام مہیش بھٹ ہیں۔مہیش بھٹ کہتے ہیں ان کی ماں مسلمان تھی لیکن مجھے ہندو نام دے کر انہوں نے مجھے اچھوت بننے سے بچایا۔

مہیش بھٹ مسلمانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھارت اتنا سیکولر ہے نہیں جتنا وہ اس کا پرچار کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بھارتی ایک سیاہ فام کی وائٹ ہاؤس میں آمد پر خوشیاں مناتے ہیں۔ مہیش بھٹ کہتے ہیں: ’میں اس وقت خوشیاں مناؤں گا جب ایک مسلمان بھارت کا وزیر اعظم بنے گا۔‘

ممبئی میں جاگشواری کے علاقے میں ایک سڑک ہندو علاقے اور مسلمان علاقوں کو جدا کرتی ہے۔ مسلمان علاقے کو چھوٹا پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ دوسرے طرف بھارت ہے۔

بھارت میں حکومت کا اسلامی مدرسوں پر بھی زیادہ کنٹرول ہے جبکہ پاکستان میں مدرسے طالبان کو سب سے زیادہ رنگروٹ مہیا کرتے ہیں۔

یہ سب کیسے ممکن ہوا۔ دہلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نجیب جنگ کہتے ہیں کہ انیس سو اکہتر کی جنگ میں پاکستان کی شکست بھارتی مسلمانوں کے لیے اہم موڑ ثابت ہوئی ہے۔’ اگر بھارتی مسلمانوں کا پاکستان کے کچھ ساتھ لگاؤ تھا تو وہ انیس سو اکہتر میں ختم ہو گیا۔‘

ڈاکٹر جنگ اس نکتہ نظر سے متفق نہیں ہیں کہ بھارتی مسلمانوں ہر شعبے میں پیچھے ہیں۔’ مسلمان بھی اتنا ہی اچھا یا برا کر رہے جتنے ان کےہم وطن۔‘

وکرم سود سمجھتے ہیں کہ اگر بھارتی معیشت اسی طرح بڑھتی رہی جس طرح وہ اب بڑھ رہی ہے تو تمام مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے لیکن اگر معیشت خراب ہوتی ہے تو مسائل صرف بڑھیں گے نہیں بلکہ کئی گنا بڑھ جائیں گے۔‘

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔