آسام چائے کے معیار کا سوال

آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 دسمبر 2012 ,‭ 14:12 GMT 19:12 PST
چائے

گذشتہ پانچ برسوں میں بھارت کی چائے برآمدات میں بارہ فی صد کمی آئی ہے۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام اپنی چائے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے اور یہ اس ریاست کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

یہاں کی چائے کی قیمت نسبتاً زیادہ اس لیے ہوتی ہے کہ اسے ہاتھوں سے تیار کیا جاتا ہے اور اس کی تیاری میں کافی خرچ آتا ہے۔

اس میں اگر ذرا بھی کمی کی گئی تو آسام چائے کے برانڈ پر حرف آتا ہے۔

ایک روایتی انداز کے برطانوی راج کے پرانے بنگلے میں رات گذارنے کا اتفاق ہوا اور میری نیند صبح چھ بجے سائرن کی آواز سے کھلی۔

یہ سائرن ان ایک ہزار سے زیادہ مردوں اور خواتین کے لیے تھا جنہیں بستر چھوڑ کر چائے کے باغ میں چائے کی پتیاں توڑنے، چائے کی نئی جھاڑیاں لگانے، خراب گھاس نکالنے، کیاریاں بنانے اور اس سے منسلک دوسرے کام پر آٹھ گھنٹے کے لیے جانا تھا تاکہ بہتر قسم کی چائے اگائی جا سکے۔

یہ سائرن ان لوگوں کے لیے بھی بجتا ہے جو چائے کے سٹیٹ کا انتظام دیکھتے ہیں تاکہ وہاں کام کرنے والوں میں کام تقسیم کر سکیں۔

آسام کے چائے کے باغ ایسے نظر آتے ہیں جیسے بلیئرڈز کی ایکڑ در ایکڑ پھیلی ہوئی میز ہو یا پورے خطے پر دھانی چادر بچھا دی گئی ہو۔

چائے کے مزدور

"اس سٹیٹ میں رہنے والے سپاہی، کام کرنے والوں کو 'مزدور لائن' کہا جاتا ہے۔ شروع میں چائے اگانے والے برطانوی کو یہاں مقامی طور پر مزدور فراہم نہیں تھے اس لیے انھوں نے ملک کے دور دراز کے علاقوں سے برہمپتر ندی کے پار کشتی سے لاکر انہیں یہاں بسایا۔"

جس چائے کے باغ میں میرا قیام ہوا تھا اسے ملٹری کے انداز میں چلایا جاتا ہے اور میرے مطلق العنان چچا برٹش راج میں اس کے انتظام دیکھا کرتے تھے۔

صبح کی آفیسرز میٹنگ میں شرکت کرنے والے کاشت کار ابھی تک روایتی کپڑے میں تھے یعنی شارٹ اور لمبے موزے۔

اس کے سینيئر منیجر کمانڈنگ آفیسر ہیں اور وہ بنگلے میں رہتے ہیں جس کی شان و شوکت ان کے اختیارات کی علامت ہیں۔

آفیسروں کا میس مقامی کاشت کاروں کا کلب ہے جسے برٹش راج نے قائم کیا تھا۔

کڑی سفید فوجی مونچھوں والے دیوراج جو کمپنی کے سینيئر صلاح کار اور چائے کی سٹیٹ کے مالک ہیں انھوں نے کہا کہ ’یہ ریجمنٹ کا نظام برطانیہ کے لیے بھی کار گر تھا اور چائے کے میدان میں ہمارے لیے بھی پچاس سال تک کار آمد رہا ہے‘۔

اس سٹیٹ میں رہنے والے سپاہی، کام کرنے والوں کو ’مزدور لائن‘ کہا جاتا ہے۔

شروع میں چائے اگانے والے برطانوی کو یہاں مقامی طور پر مزدور فراہم نہیں تھے اس لیے انہوں نے ملک کے دور دراز کے علاقوں سے برہمپتر ندی کے پار کشتی سے لا کر انہیں یہاں بسایا۔

سفر اتنے مشکل ہوتے تھے کہ چائے کے باغ تک آتے آتے آدھے لوگ مر چکے ہوتے تھے اور آج یہاں پر کام کرنے والے کچھ لوگ ان لوگوں کے ہی وارث ہیں جو اس مشکل سفر میں بچ کر یہاں آئے تھے۔

چائے آسام

آسام کی چائے کا اپنا برانڈ ہے جس میں کسی قسم کی کمی اس کے معیار پر ضرب ہو سکتی ہے۔

دیو راج کا کہنا ہے کہ ’اب مزدوروں کی یہاں لحد تک دیکھ بھال کی جاتی ہے،۔ حکومت سے طے شدہ ماہانہ تنخوا کے علاوہ انہیں مکان ملتا ہے، مفت راشن دیا جاتا ہے، پکانے کے لیے لکڑیاں اور بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ اس سٹیٹ میں ایک سکول اور ایک ہسپتال بھی ہے‘۔

اگرچہ روایتی طریقے سے چائے کی پیداوار حاصل کرنے میں زیادہ خرچہ آتا ہے لیکن دیوراج مشین کا استعمال کر کے ان کی تعداد کم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

چائے کی سبز اور تازہ پتیوں کو پودوں سے نزاکت کے ساتھ توڑتی ہوئیں خواتین کی جانب دیکھتے ہوئے انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مشینیں ڈنٹھل اور پتیوں میں فرق نہیں کر سکتیں، پھر انہوں نے کہا کہ ’آپ مشین کے ذریعے پتیوں اور ڈنٹھلوں کا مرکب ہی حاصل کر سکتے اور اس سے عمدہ اور نفیس قسم کی چائے نہیں مل سکتی ہے‘۔

لیکن اب چائے کے باغات والے مشین کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ اب لوگ چائے کے باغ میں کام کرنے، پتیاں توڑنے، اور جھاڑیوں کی دیکھ بھال کے لیے تیار نہیں ہیں۔

دیوراج کہتے ہیں کہ ’نوجوان لوگ کہتے ہیں کہ اگرچہ وہ قلی کے طور پر پیدا ہوئے ہیں لیکن وہ اپنی پوری زندگی قلی نہیں رہنا چاہتے ہیں‘۔

دوسرے چـائے کے باغات میں کام کرنے والوں کو حکومت کی نئی بے روزگاری ختم کرنے والی سکیم اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے۔ جب میں نے اس کا سبب جاننے کی کوشش کی تو مجھے بتایا گیا کہ ’اس سکیم کے تحت آپ کام تو کرتے ہیں لیکن کوئی آپ سے کام نہیں کرواتا ہے جبکہ یہاں آّپ پر ہر گھڑی نظر رکھی جاتی ہے‘۔

معیار

"معیار کو اسی طرح برقرار رکھا جا سکتا ہے جیسے ہمنے گذشتہ پچاس سال تک برقرار رکھا ہے"

چھوٹے پیمانے پر چائے اگانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ چائے کی قیمت میں بھی سٹیٹ کو مقابلہ دیتے ہیں کیونکہ ان کے چائے اگانے میں نسبتاً کم خرچ آتے ہیں۔

چائے کے باغ میں عمدہ قسم کی پتیاں صرف ایک پودے سے چالیس سال کی عمر تک حاصل ہوتی ہیں اس کے بعد اس میں گراوٹ آنے لگتی ہے اور تازہ جھاڑیاں لگانا کافی مہنگا پڑتا ہے۔ چھوٹے باغات والے اس کا خیال نہیں رکھتے۔

چائے کی کوالٹی میں گراوٹ سے آسام چائے کے برانڈ پر آنچ آتی ہے کیونکہ اس کا مقابلہ کینیا اور ویت نام میں اگائی جانے والی چائے سے ہے جہاں چائے کی پیداوار میں کم اخراجات ہیں۔

اس لیے معیار کو برقرار رکھنا بھارت کے چائے برآمد کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ گذشتہ پانچ سالوں میں ان میں بارہ فیصد کمی آئی ہے۔

دیو راج کا کہنا ہے کہ ’معیار کو اسی طرح برقرار رکھا جا سکتا ہے جیسے ہم نے گذشتہ پچاس سال تک برقرار رکھا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔