بھارت: ریٹیل مارکیٹ میں بیرونی سرمایہ کاری پر بحث

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 دسمبر 2012 ,‭ 10:20 GMT 15:20 PST
بھارتی پارلیمان

لوک سبھا میں گزشتہ کئي روز سے ہنگامہ جاری تھی۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ ریٹیل سیکٹر میں بیرونی سرمایہ کاری کے خلاف پارلیمان میں اپوزیشن کی تحریک ناکام ہو جائے گی۔

ریٹیل سیکٹر یعنی خوردہ بازار میں بیرونی سرمایہ کاری پر کئی روز کی ہنگامہ آرائي کے بعد اپوزيشن کی تحریک پر منگل کے روز بحث شروع ہوئی اور بحث مکمل ہونے کے بعد اس پر ووٹنگ ہوگي۔

ایوانِ زیریں یعنی لوک سبھا میں بحث کا آغاز حزب اختلاف کی رہنما سشما سواراج نے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں حکومت کے اس متنازع فیصلے پر سخت نکتہ چینی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نےگزشتہ برس جب ایف ڈی آئی یا بیرونی براہ راست سرمایہ کاری پر فیصلہ کیا تھا تو اپوزيشن کے احتجاج کے بعد اس نے اس متنازع فیصلے کو واپس لے لیا تھا اور ایوان میں یقین دہانی کرائی تھی کہ اس پر فیصلہ سبھی جماعتوں سے صلاح و مشورہ کے بعد کیا جائے گا۔

محترمہ سواراج نے کہا کہ حکومت نے فریب سے کام لیا اور اس برس اس نے کسی کو بھی اعتماد میں لیے بغیر ہی بیرونی سرمایہ کاری کا فیصلہ کرلیا جو ایوان میں کیےگئے وعدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اسی رویے کی وجہ سے اپوزیشن نے اس پر ووٹ کے لیے زور دیا اور تحریک پیش کی تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ اس متنازع فیصلے کا کون حامی ہے اور کون مخالف۔

حکومت پہلے اس پر ووٹنگ کے تحت بحث کے لیے راضی نہیں تھی لیکن اپوزيشن کے زبردست احتجاج کے بعد وہ اس کے لیے تیار ہوئي۔

بحث کے آغاز سے قبل پارلیمانی امور کے وزیر کمل ناتھ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمیں اعتماد ہے کہ بی جے پی کی طرف سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پیش کی گئي تحریک مسترد کر دی جائیگي۔ میں تمام جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بی جے پی کی سیاست کی حمایت نہ کریں۔‘

حکمراں جماعت کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں اس کے پاس اس تحریک کو ناکام بنانے کے لیے مناسب نمبر موجود ہیں۔

"ہمیں اعتماد ہے کہ بی جے پی کی طرف سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پیش کی گئي تحریک مسترد کر دی جائیگي۔ میں تمام جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بی جے پی کی سیاست کی حمایت نا کریں ۔"

کمل ناتھ

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے جد وجہد کرکے اپنے حامیوں کو تو منا لیا ہے اور وہ اب اس میں کامیاب بھی ہو جائے گی لیکن اس قدر مخالفت کے باوجود اس طرح کی کامیابی سیاسی جیت نہیں بلکہ سبکی کا سبب بن سکتی ہے۔

خوردہ بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کے مسئلے پر شدیداختلافات کے باعث زبردست ہنگامہ آرائی جاری تھی جس کے سبب سرمائی اجلاس کئي روز سے معطل تھا۔

حکومت کی اتحادی سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور ڈی ایم کے، حکومت کے موقف کی حامی نہیں ہیں لیکن وہ حکومت کو گرانا بھی نہیں چاہتیں، اس لیے انھوں نے حکومت کی حمایت کا وعدہ کیا ہے۔

حکومت کی بعض اتحادی جماعتیں بھی ریٹیل سیکٹر میں بیرونی سرمایہ کاری کی مخالف ہیں اس لیے حکومت ووٹ سے بچ رہی تھی۔ لیکن اطلاعات کے مطابق سبکی سے بچنے کے لیے اس نے اپنے اتحادیوں کو منا لیا ہے۔

لیکن ملائم سنگھ کی جماعت سماج وادی پارٹی کا کہنا ہے کہ لوک سبھا میں تو وہ حکومت کا ساتھ دے گي لیکن ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں وہ حکومت کے خلاف ووٹ کرے گي۔

راجیہ سبھا میں حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے اور وہ اس سے نمٹنے کے لیے اب بھی بعض جماعتوں سے بات چيت میں مصروف ہے۔ ماہرین کے مطابق چونکہ اس کا تعلق مالی بل سے نہیں ہے اس لیے حکومت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔