انڈيا، مالدیپ میں کشیدگي کم کرنے کی کوشش

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 دسمبر 2012 ,‭ 15:01 GMT 20:01 PST

بھارتی کمپنی جی ایم آر نے مالدیپ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بہتر بنانے اور اس کا انتظام چلانے کا معاہدہ کیا تھا

مالدیپ میں بھارتی نجی کمپنی جی ایم آر کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو دور کرنے کے لیے مالدیپ کے وزیر خارجہ نے اپنے بھارتی ہم منصب سے بات کی ہے۔

منگل کے روز مالدیپ کے وزیر خارجہ صمد عبداللہ نے اپنے بھارتی ہم منصب سلمان خورشید سے فون پر بات چيت میں کہا کہ بھارتی حکومت کو اس معاملے سے متعلق تمام تفصیلات جلد ہی فراہم کی جائیں گی۔

مالدیپ کی حکومت نے دو ہزار دس میں اپنے ملک کے بین القوامی ہوائی اڈے کی مرمت اور اس کے انتظامات کے لیے بھارتی کمپنی جی ایم آر کے ساتھ پچاس کروڑ ڈالر کا معاہدہ کیا تھا جسے مالدیپ کی موجودہ حکومت نے ستائیس نومبر کو منسوخ کر دیا تھا۔

بھارتی حکومت مالدیپ کے اس فیصلے سے نالاں ہے اور بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے اس سلسلے میں مالدیپ سے بات چيت بھی کی تھی لیکن اس سے معاملات میں کوئی بہتری نہیں ہوئی۔

بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ معاہدے کے تحت مالدیپ کو بھارتی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری تھا۔

بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈيا کے مطابق مالدیپ کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کے صدر محمد وحید بھارتی وزیراعظم کو ایک تفصیلی خط لکھ کر جی ایم آر سے متعلق متناز‏ع فیصلے سے آگاہ کریں گے۔

"یہ ہمارا فیصلہ ہے جسے واپس نہیں لیا جا سکتا اس پر بات بھی نہیں کی جائیگي۔"

مالدیپ کے صدارتی ترجمان

بھارتی کمپنی جی ایم آر نے معاہدے کے تحت مالدیپ کی حکومت کے فیصلے کو سنگا پور کی عدالت میں چیلنج کیا تھا اور سنگا پور کی عدالت نے حکومت کے فیصلے پر حکم امتناعی جاری کر دیا تھا۔

مالدیپ نے سنگا پور کی عدالت کے فیصلے کے باوجود کہا کہ وہ وہ معاہدے کے منسوخي کے اپنے فیصلے پر عمل کریگا۔

مالدیپ کے صدر محمد وحید کے ترجمان مسعود عماد کا کہنا تھا کہ بھارتی کمپنی جی ایم آر کے ساتھ معاہدہ کی منسوخی کے کا فیصلہ واپس نہیں لیا جائیگا۔

صدارتی ترجمان نے کہا '’یہ ہمارا فیصلہ ہے جسے واپس نہیں لیا جا سکتا اس پر بات بھی نہیں کی جائیگي۔‘

دوسری جانب جی ایم آر کا موقف ہے کہ عدالت کے فیصلے کے مطلب یہ کہ وہ معاہدے کے تحت ہوائی اڈے پر اپنا آپریشن جاری رکھے۔

مالدیپ کے اسی فیصلے کی وجہ سے بھارت اور مالدیپ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔

مالدیپ کے سابق صدر محمد نشید، جنہوں نے بھارتی کمپنی کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا نے حکومت کے اس فیصلے پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی ہے کہ اس سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری اور سیاحت کو نقصان پہنچے گا۔

بھارتی ذرائع بلاغ میں اس حوالے سے طرح طرح کی خبریں شائ‏ع ہورہی ہیں اور بعض اخبارات کے مطابق بھارت نے مالدیپ کو دی جانے والی امداد کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ابھی امداد روکنے کے بجائے کم اور سست کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔