ایودھیا کے بیس سال بعد کا بھارت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 6 دسمبر 2012 ,‭ 17:06 GMT 22:06 PST

تاریخ دان اور مصنف پیٹرک فرینچ کا کہنا ہے کہ ایودھیا میں بابری مسجد کو منہدم کرنے اور پرتشدد فسادات کے بیس سال بعد بھی ہندو انتہا پسند بھارت میں غلبہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

سنہ انیس سو بانوے میں جب مرد ہاتھوں میں جھنڈے پکڑے بابری مسجد کے ٹوٹے ہوئے گنبد پر کھڑے تھے تو اس وقت وہ بے انتہا خوش دکھائے دے رہے تھے اور اس سے ایسا لگ رہا تھا کہ بھارت کی سیاست تبدیل ہو چکی ہے۔

اس وقت ایسے ممتاز دانشوروں کو تلاش کرنا مشکل نہیں تھا جن کو یقین تھا کہ سخت گیر سیاسی ہندوازم مستقبل کی نمائندگی کرے گا۔

بھارت میں ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد کی یہ رائے تھی کہ اگر انتہا پسند عناصر کا انتخاب کیا جائے تو یہ آزادی کے وقت کیے جانے والے تصور کے مطابق متنوع اور کثیر الاصوات قسم کی مختلف قوم بنا سکتے ہیں۔

’سکول میں بچے روزانہ پڑھا کرتے تھے کہ مجھے اپنے ملک سے پیار ہے اور مجھے اس کے مختلف نوعیت کے ورثوں پر فخر ہے تاہم ایودھیا کے واقعے کے چند ماہ بعد تاریخ دان سروپالی گوپال کی تحریوں میں اس خوف کا ذکر کیا گیا تھا کہ سکیولرزم کا گلا گھونٹ دیا جائے گا اور بھارت اس طرف جا سکتا ہے جہاں فاشسٹ اس پر قبضہ کر لیں گے، اور بنیادی تصورات کا گھیراؤ جس پر ایک آزاد بھارت نے اپنی بنیاد رکھنے کی کوشش کی تھی اب یہ بہت شدید ہو گیا ہے‘۔

بابری مسجد کے انہدام کے بعد ڈر یا خوف کی کئی وجوہات تھیں۔

ملک بھر میں شروع ہونے والے فسادت میں ہزاروں افراد مارے گئے اور اس میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ ممبئی میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے اور ان کے پیچھے دبئی میں مقیم میں ایک جرائم پیشہ اور دہشت پھیلانے والی مافیا تھی اور اس ظلم و ستم کا شکار بہت دور کراچی میں بسنے والی ہندووں سمیت کئی اور اقلیتیں بھی ہوئیں۔

مصنف وی ایس نائپال کی نظر میں بابری مسجد پر دھاوا بولنے والے افراد کا جذبہ دیکھ کر لگتا تھا کہ بھارت اپنی روح کو دوبارہ حاصل کرنے کی بے حد کوشش کر رہا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ ایک بڑی تحریک بن جائے گا اور اس دن کے موقع پر ممکنہ طور پر قومی تعطیل ہو گی۔ حقیقت میں بھارت کی انتخابی سیاست کا نچوڑ یہ ہے اس نے کئی سال گذرنے کے بعد اس تباہ کن کارروائی سے خود کو دور کر لیا ہے۔

سال انیس سو بانوے میں دو سیاسی تحریکیں ابھر کر سامنے آئیں، ان میں ایک ہندو شناخت اور دوسری پسماندہ ذات پات کے نام پر بڑی جلسے جلسوں میں ووٹ مانگنے کی تھی۔

پہلی تحریک نے جہاں انقلابی جمہوری سیاست کو ترویج دی اور اب تک اس میں تبدیلی آ رہی ہے تو دوسری تحریک ہندوازم ایک بڑی انتخابی طاقت کے طور پر کمزور پڑ گئی ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ایسے لوگ ہر وقت موجود ہوتے ہیں جو اس بات پر شور مچاتے ہیں اور ان کا یقین ہے کہ ہندو ایک بغیر آواز کے اکثریت ہیں اور انہیں سکیولرز کی جانب سے دھوکے بازی سے ایذا رسائی کا سامنا ہے مگر ایسے افراد کا اثر و رسوخ اب کم پڑتا جا رہا ہے۔

ہندو قوم پرست جماعت بھارتی جنتا پارٹی ’بی جے پی‘ کے سیاست دان جو ماضی میں شدت پسند ہندوتوا کے ساتھ بہت مضبوطی سے جڑے تھے، جسیا کہ لال کرشنا ایڈوانی اور نریندر مودی اب یہ اپنا زیادہ تر وقت اس میں صرف کرتے ہیں کہ یہ انتہا پسند نہ لگیں۔

ایل کے ایڈوانی نےسال دو ہزار پانچ میں اپنے دورۂ پاکستان کے موقع پر بڑی دھوم دھام سے محمد علی جناح کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ سکیولر ریاست کے شدت سے حمایتی تھے۔

جبکہ نریندر سنگھ مودی اس کوشش میں ہیں کہ اپنی منفی شہرت کو دور کرنے کے لیے گجرات کے مسلمان رہنماؤں کے ساتھ تعلقات استوار کیے جائیں اور اس وقت گجرات میں آبادی کی لحاظ سے پولیس میں مسلمان اہلکاروں کی تعداد دیگر بہت ساری ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

ہندوتوا یا ہندو شدت پسندی بیلٹ پر مسلسل ووٹرز کو مائل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ریاست اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے اما بھارتی جیسی متنازع شخصیت کو استعمال کرنے کی کوشش کی اور یہ بے جی کی تباہی کا سبب بنا کیونکہ اما بھارتی نے بظاہر مستقبل کی ایک جھلک دینے کی بجائے داغ دار ماضی کو پھر سے نمایاں کر کے دکھا دیا۔

یہاں تک کہ ایودھیا کے حلقے سے بھی بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایودھیا سے سماج وادی پارٹی کے سیاست دان اور ایک طالب علم پؤن پانڈے نے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے اپنی کامیابی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ایک عام آدمی مندر کی جھوٹی سیاست پر یقین نہیں کرتا اور ہر ایک اچھی حکومت اور ترقی چاہتا ہے۔

سنہ انیس سو بانوے کے مقابلے میں اب بھارت غیر معمولی حد تک امیر بھی ہو چکا ہے۔

ایسے ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جن کے نزدیک سیاسی جماعتوں کے پاس ان کی مسائل کا حل یا جواب نہیں ہے۔ جہاں ممکن ہوتا ہے یہ ریاست سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی اور جگہ کام تلاش کرتے ہیں۔

معاشی ماہرین آپ کو بتائیں گے کہ کسی شخص کے اگر مفادات وابستہ ہونگے تو فساد کرنے کے امکانات کم ہیں۔

نسلی فسادات سماجی دباؤ کے اس دور میں جاری رہے ہیں لیکن یہ بہت ہی کم عام ہے۔

انیس سو بانوے کے خدشات کے برعکس لوگوں میں اب یہ بات کم ملتی ہے کہ ملک ایک مذہبی ریاست بن جائے یا فاشٹ اس پر قبضہ کر لیں۔

بدقسمتی سے اسلام کے آثار قدیمہ کو ہندو اکثریتی بھارت کے مقابلے میں سعودی عرب میں زیادہ خطرے میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مکہ اور مدینہ میں گذشتہ بیس سال کے دوران سلطنت عثمانیہ کے دور کی تاریخی مقامات کو تباہ کر دیا گیا ہے، اس میں پیغمبر اسلام کی پہلی زوجہ بی بی خدیجہ کا مکان بھی شامل ہے جسے اب عوامی بلاک میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

پیغمبر اسلام کے نواسے کی مسجد کو تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ مدینہ کے اطراف میں پانچ تاریخی مساجد کو مٹا دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ان گنت تعداد میں مذہبی مقامات اور مزاروں کو سعودی حکام کی جانب سے مسمار کیا جا چکا ہے۔ اور اس کی وجہ ان کی اسلام کی سخت گیر تشریح ہے جس میں آئیڈل یعنی بدعت کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

بابری مسجد کے بیس سال بعد مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تعلقات نے کوئی مثبت یا منفی صورت اختیار نہیں کی ہے تاہم مسلمانوں کو اب بھی غیر امتیازی سلوک کا سامنا ہے، انہیں بینکاری سمیت اعلیٰ ملازمتوں سے دور رکھا گیاہے۔ تاہم دونوں کے درمیان مشترکہ سماجی تعلقات اور برادریوں کے مابین باہمی انحصار اب بھی قائم ہے جس پر بھارت کی بنیاد پڑی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔