بہار میں زہریلی شراب پینے سےتیرہ ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 دسمبر 2012 ,‭ 17:40 GMT 22:40 PST

کئی متاثرین کا ہسپتال میں علاج چل رہا ہے

بھارتی ریاست بہار کے ضلع بھوج پور میں زہریلی شراب پینے سے تیرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور متعدد متاثرین کا ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔

زہریلی شراب پینے کا یہ واقعہ نوادا تھانے کے انیتھ اور اس کے آس پاس کے گاؤں میں پیش آیا ہے۔

شاہ آباد رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس اجیتابھ کمار نے خبر رساں ادرہ پریس ٹرسٹ آف انڈيا کواس کی معلومات دیتے ہوئے کہا کہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

ان کا کہنا تھا ’زہریلی شراب سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعددا تیرہ ہوگئی ہے اور آس پاس کے دیہاتوں میں مزید تلاشی کا کام ابھی جاری ہے اس لیے اور ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں۔‘

غیر سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد اٹھارہ ہے۔

پولیس کے مطابق جو لوگ شراب پینے سے متاثر ہوئے ہیں انہوں نے دو روز قبل پاس کے ریلوے سٹیشن سے شراب خریدی تھی۔

اجیتابھ کمار کے مطابق پولیس نے اس سلسلے میں آٹھ ایف آئی آر درج کی ہیں اور جو لوگ شراب فروخت کر رہے تھے ان سمیت تیرہ افراد کو گرفتار کیا گيا ہے۔

پولیس نے آس پاس کی کئی دکانوں سے بھاری مقدار میں اس طرح کی دیسی شراب بھی برآمد کی ہے جو مقامی سطح پر بنا کر فروخت کی جاتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی تمام پہلوؤں کی تفتیش کر رہی اور کسی کو بخشا نہیں جائےگا۔

لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی شراب بنانے والوں کے ساتھ مقامی انتظامیہ ملوث ہوتی ہے اور انہیں کی وجہ سے ان کی تجارت چلتی ہے۔
بھارت کے مختلف علاقوں میں ہر برس زہریلی شراب پینے کے واقعات ہوتے ہیں جس میں اکثر غریب افراد متاثر ہوتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔