بھارت: وال مارٹ کے انکشاف پر تفتیش کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  پير 10 دسمبر 2012 ,‭ 09:15 GMT 14:15 PST
والمارٹ کی ایک فوٹو

بھارت نے چند ماہ قبل ہی بیرونی کمپنیوں کو ریٹیل مارکیٹ میں اکاون فیصد سرمایہ کاری کی اجازت دی ہے۔

ری ٹیل سٹور چین وال مارٹ کے اس انکشاف کے بعد کہ بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے لابی کرنے پر اس نے بھاری رقم خرچ کی ہے، بھارت میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

ری ٹیل سیکٹر کی معروف امریکی کمپنی وال مارٹ نے کہا ہے کہ بھارت کے خوردہ بازار میں داخلے کے لیے وہ دو ہزار آٹھ سے ہی لابی کرتی رہی تھی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے اس نے جو لابی کی، اس کے لیے اس نے پچیس ملین ڈالر یعنی تقریبا ایک سو پچيس کروڑ روپے خرج کیے۔

بھارتی حکومت نے خوردہ بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کی حال ہی میں اجازت دی تھی جسے اپوزیشن کی زبردست ہنگامہ آرائي کے درمیان پارلیمان نے بھی منظور کر لیا ہے۔

گذشتہ ہفتے جب پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اس معاملے پر ووٹنگ ہوئي تو لگا کہ خوردہ بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کے مسئلے پر چند ماہ سے جاری ہنگامہ آرائي اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے۔

لیکن پیر کے روز وال مارٹ کی رپورٹ سامنے آنے پر اپوزيشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ چونکہ لابی کرنا ہندوستان میں غیر قانونی ہے، اس لیے اس معاملے کی تفتیش ضروری ہے۔

ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں بی جے پی کے رہنما روی شنکر پرساد نے کہا، ’ایسا لگتا ہے کہ رشوت دی گئی ہے۔۔۔۔ کس کو رشوت دی گئی ہے۔ حکومت کے لیے اس کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔ اگر معاملہ یہی ہے تو پھر تمام خوردہ بازار کی کمپنیوں کے داخلے پر سوال اٹھتا ہے۔‘

"ایسا لگتا ہے کہ رشوت دی گئی ہے۔۔۔۔ کس کو رشوت دی گئی ہے۔ حکومت کے لیے اس کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔ اگر معاملہ یہی ہے تو پھر تمام خوردہ بازار کی کمپنیوں کے داخلے پر سوال اٹھتا ہے۔"

حکومت کی اتحادی جماعت سماج وادی پارٹی نے بھی حکومت سے اس معاملے کی تفتیش کے لیے کہا ہے۔

پارٹی کے رہنما موہن سنگھ کا کہنا تھا کہ وال مارٹ نے لابیئنگ کے لیے جو رقم بتائي ہے اس سے کہیں زیادہ استعمال کی گئی ہوگي، ’حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کی آزادانہ تفتیش کرائے۔‘

ترنمول کانگریس، مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی، جنتادل یو اور دیگر علاقائی جماعتوں نے بھی اس معاملے کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

تقریبا سبھی جماعتوں نے ایف ڈی آئی کی ایک بار پھر سخت مخالفت کی اور ایک بار پھر زبردست ہنگامہ آرائی ہوئي۔ لنچ سے قبل ایوان کی کارروائي دو بار ملتوی کرنی پڑی۔

وال مارٹ کا کہنا ہے کہ بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے اس نے امریکی سینیٹ، کانگریس، امریکی ٹریڈ ریپریزینٹیٹیو اور امریکی وزارت خارجہ سے لابی کی ہے۔

بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ خوردہ بازار میں بیرونی سرمایہ کاری سے کسانوں کو فائدہ پہنچےگا اور اس سے بھارتی معیشت کی رفتار بھی بڑھےگي۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اقتصادی اصلاحات کی سمت میں ری ٹیل سیکٹر میں بیرونی سرمایہ کاری ایک اہم قدم ہے اور حکومت اس سمت میں اپنی کوششیں جاری رکھے گي۔

لیکن اپوزیشن اور حکومت کی بعض اتحادی جماعتیں اس کی مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے خوردہ بازار کے مقامی روزگار کو زبردست نقصان پہنچےگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایف ڈی آئی پر پارلیمان میں بحث کے دوران بھی تقریبا سبھی جماعتوں نے بار بار وال مارٹ کا ہی نام لیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔