بھارت: وال مارٹ پر رشوت کے الزامات کی تفتیش

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 09:44 GMT 14:44 PST
والمارٹ

بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے خوردہ بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کی سخت مخالفت کی ہے

بھارت میں حکومت نے سپرمارکٹس چلانے والی بین الاقوامی کمپنی وال مارٹ کے اس انکشاف کی تفتیش کرانے کا اعلان کیا ہے کہ ہندوستان میں سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرانے کے لیے اس نے سوا ارب روپے خرچ کیے تھے۔

پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں حزب اختلاف کے ہنگامے کے دوران وفاقی وزیر کمل ناتھ نے کہا کہ وال مارٹ کے انکشافات پر حکومت کو بھی تشویش ہے اور وہ اس پورے معاملے کی تفتیش کرانے کے لیے تیار ہے۔

اس سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی اور بائیں بازو کی جماعتوں نے عدالتی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ حزب اختلاف کا الزام ہے کہ وال مارٹ نے ہندوستان میں بااثر سیاست دانوں کو رشوت دی تھی اور اسی وجہ سے حکومت نے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دی تھی۔

مسٹر کمل ناتھ نے کہا کہ وہ تفتیش کے بارے میں آج ہی مزید تفصیلات کا اعلان کریں گے۔

والمارٹ نے یہ رقم لابی اِنگ پر خرچ کی تھی، یعنی ایسی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے پر جو اقتدار کے ایوانوں میں اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتی ہیں۔

امریکہ میں یہ عمل غیر قانونی نہیں ہے بشرطیکہ کمپنی نے رشوت نہ دی ہو اور قانون کے مطابق اپنے اخراجات کا انکشاف کیا ہو۔

اگرچہ لوک سبھا میں سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں بھی سیاستدانوں کو رشوت دی گئی ہے لیکن وال مارٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ الزامات بالکل بے بنیاد ہیں، پوری رقم امریکہ میں خرچ کی گئی تھی اور اس میں سٹاف کی تنخواہیں، ماہرین کی فیسیں اور دیگر اخراجات بھی شامل ہیں۔‘

ہندوستان میں سپرمارکٹس کھولنے کی اجازت حال ہی میں دی گئی ہے لیکن حزب اختلاف کی جانب سے اس کی سخت مخالفت کی جارہی ہے۔ ان کا الزام ہےکہ بڑی سوپر مارکٹس کے آنے سے کسانوں اور چھوٹے دکانداروں کو بہت نقصان پہنچے گا۔ لیکن حکومت کا موقف ہے کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی بہتر قیمت ملے گی اور بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔