’ڈاکٹر چشتی قتل کے الزام سے بری، رہائی کا حکم‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 دسمبر 2012 ,‭ 06:52 GMT 11:52 PST

عدالت نے حکام کو ڈاکٹر چشتی کی پاکستان واپسی کے سلسلے میں انتظامات کرنے کو کہا ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے معمر پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر خلیل چشتی کو قتل کے الزام سے بری کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا ہے۔

جسٹس پی ساتھا سووم اور جسٹس رنجن گوگوئی پر مشتمل عدالت کے دو رکنی بنچ نے بدھ کو اپنے فیصلے میں کہا کہ ان پر قتل کے بجائے ’دانستہ طور پر کسی کو زخمی کرنے‘ کا جرم ثابت ہوتا ہے جس کے لیے وہ پہلے ہی جیل میں کافی وقت گزار چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق عدالت نے ڈاکٹر چشتی کو غیرمشروط طور پر وطن واپسی کی اجازت بھی دے دی ہے۔ عدالت نے بھارتی حکام کو حکم دیا کہ وہ انہیں ان کی سفری دستاویزات واپس کریں اور ان کی وطن واپسی کے انتظامات میں مدد کریں۔

بیاسی سالہ ڈاکٹر چشتی بیس سال پہلے اپنی والدہ سےملنے بھارت کے شہر اجمیر آئے تھے اور تب سے ہی قتل کے ایک معاملے میں پھنس جانے کی وجہ سے واپس نہیں جا سکے تھے۔

انہیں قتل کے اس مقدمے میں اجمیر کی ایک عدالت نے انیس برس تک سماعت کے بعد جنوری دو ہزار گيارہ میں عمر قید کی سزا سنائی تھی اور اس وقت سے وہ قید تھے۔

رواں برس اپریل میں بھارتی سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کی تھی اور انہیں عارضی طور پر پاکستان جانے کی اجازت دیتے ہوئے سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کے لیے یکم نومبر سے پہلے بھارت واپس لوٹنے کی ہدایت کی تھی۔

قانونی ماہرین کے مطابق بھارت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ ایک سزا یافتہ شخص کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی۔

ڈاکٹر خلیل چشتی عدالت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت سے تقریباً دس دن پہلے بھارت واپس آگئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔