پارلیمان پرحملہ، افضل گرو کی پھانسی کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 دسمبر 2012 ,‭ 14:14 GMT 19:14 PST
افضل گرو

افضل گرو دلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں

بھارتی پارلیمان پر حملے کی گيارہویں برسی پر بعض سیاسی جماعتوں نے حملے کی سازش میں ملوث افضل گرو کی پھانسی کی مطالبہ کیا ہے۔

تیرہ دسمبر دو ہزار ایک کو بھارتی پارلیمان پر حملہ ہوا تھا جس میں چار حملہ آوروں سمیت تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ افضل گرو کو بھارتی پارلیمان پر ہوئے مسلح حملے کے سلسلے میں سزائے موت کا سامنا ہے۔

اس وقت پارلیمان کا موسم سرما کا اجلاس جاری ہے اور جمعرات کو اہم سیاسی رہنماؤں نےاس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر حزب اختلاف کی رہنما سشما سوراج نے ایوان کے باہر صحافیوں سے بات چيت میں افضل گرو کو جلدی پھانسی دینے کی مانگ کی۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں مارے گئے افراد کو تو خراج پیش کر دیا گيا لیکن اصل خراج تب ہوگا جب وزیر داخلہ ایوان کواس بات کی یقین دہانی کرادیں کہ ان کے اہل خانہ اور ملک کو سکون تبھی ملے گا جب افضل گرو کو پھانسی دی جائیے گي۔

محترمہ سوراج نے کہا ’اگر اس ( پھانسی) کی ایک تاریخ مقرر ہوجائے اور اس کا اعلان آج ہی کر دیا جائے تو وہ شہیدوں کے لیے اصل خراج عقیدت ہوگا۔‘

سشما سوراج نے کہا کہ اس حملے میں مرنے والوں کو ہر برس خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے ’ لیکن ایک سوال اب بھی جواب کا طالب ہے کہ آخر حملہ آور جسے عدالت نے موت کی سزا سنائي ہے اسے اب تک پھانسی کیوں نہیں دی گئی۔‘

"ہر برس شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے لیکن ایک سوال اب بھی جواب کا طالب ہے کہ آخر حملہ آور جسے عدالت نے موت کی سزا سنائي ہے اسے اب تک پھانسی کیوں نہیں دی گئی۔"

محترمہ سوارج نے کہا کہ ممبئی حملہ آور اجمل قصاب کو پھانسی دینے کے بعد افضل گرو کی پھانسی کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔

ملائم سنگھ کی جماعت سماجوادی پارٹی نے بھی افضل گرو کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے رہنما موہن سنگھ نے کہا کہ عدالت کے فیصلے پر عمل ہونا چاہیے۔

لیکن وزیر مملکت برائے داخلہ آر پی این سنگھ نے کہا کہ آج کے دن ان مسئلوں پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا:’ابھی تو ہم نے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ میرے خیال سے یہ اچھی بات نہیں کہ اس جگہ سے ہٹتے ہی ہم اس مسئلے پر بھی سیاست کریں۔ ہر برس تیرہ دسمبر کے دن اس پر سیاست کرنا ملک کے شہیدوں کو خراج پیش کرنا نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پھانسی دینا یا نہ دینا ایسے معاملات نہیں ہیں جس پر پارلیمنٹ میں بحث کی جاتی ہو اور ایسے معاملات عدالت میں طے ہوتے ہیں۔

افضل گرو اس وقت دلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں اور ان کی رحم کی اپیل صدر کے پاس ہے جس پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔

وزیر داخلہ سوشیل کمار شندے نے چند روز قبل یہ بات کہی تھی کہ موجودہ پارلیمانی اجلاس کے خاتمے کے بعد افضل گرو کی رحم کی اپیل پر فیصلہ کیا جائےگا۔

گزشتہ ماہ پونے کی یروڈا جیل میں ممبئی حملے کے مجرم اجمل امیر قصاب کو پھانسی دیدی گئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔