گجرات میں ’ایچ اور ایم‘ کی تفریق

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 دسمبر 2012 ,‭ 09:06 GMT 14:06 PST
نریندر مودی

نریندر مودی کے بارے میں اگر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ملک کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں تو گجرات فسادات کا بھوت بھی ان کا پوچھا نہیں چھوڑتا ہے

بھارت کی ریاست گجرات میں اسمبلی انتخابات کے لیے پہلے مرحلے میں ستاسی سیٹوں پر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ریاست کے ایک کروڑ اکیاسی لاکھ رائے دہندگان آٹھ سو اڑتالیس امیدوراروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔

اس مرحلے میں سوراشٹر کے سات اضلاع کے اڑتالیس اسمبلی حلقوں، جنوبی گجرات کے پانچ اضلاع کی پینتیس سیٹوں اور احمد آباد ضلع کے چار اسمبلی حلقوں میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

ذرائع ابلاغ میں یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ نریندر مودی نے گجرات کو ترقی کی راہ پر لا کھڑا کیا ہے اور مودی مستقبل میں ملک کے وزیراعظم بن سکتے ہیں لیکن جب گجرات میں نریندر مودی کا ذکر ہوتا ہے تو دو ہزار دو کے گجرات فسادات کا ذکر ہونا لازمی ہے۔

نریندر مودی کا دعویٰ ہے کہ گجرات بدل چکا ہے اور یہاں دس برسوں سے کوئی فساد نہیں ہوا ہے اور ان کے بنائے ترقی کے راستے پر ہر گجراتی برابر کی رفتار میں چل رہا ہے۔

لیکن کیا نریندر مودی کا دعویٰ صحیح ہے؟ مودی کے اس دعویٰ پر گجرات کو ہندو اور مسلمانوں کی کیا رائے ہیں۔

میں نے گجرات کے ایک ہندو اور ایک مسلم شہری سے نریندر مودی کا ذکر کیا تو ان کی رائے کچھ یوں تھی۔

’بچ کے چلو، بچ کے چلو‘

خان

خان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سے دوری ہی بنا کر رکھنا بہتر سمجتھے ہیں

خان (ان کا اصل نام نہیں ہے) ٹیکسی چلاتے ہیں۔ لیکن اپنی مرضی سے نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کچھ رقم جمع کرکے کسی اچھے علاقے میں دکان لے لیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ جہاں بھی جاؤں گا یہ کہ کر دکان دینے سے منع کردیں گے کہ ’بھائی تم ایم کلاس ہو‘۔ یعنی مسلمان ہو۔

خان کی عمر تیس برس ہے۔ اقتصادی اعتبار سے ان کا خاندان بری حالت میں نہیں لیکن وہ اپنی زندگی کو بہتر کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں کو ’ایم کلاس‘ کہنا دو ہزار دو کے فسادات کے بعد شروع ہوا ہے لیکن ہاں ’مذہب کی بنیاد پر تفریق دوہزار دو کے بعد زیادہ شروع ہوگئی ہے‘۔

نریندر مودی کے ذکر پر خان غصے میں نہیں آتے بلکہ ایک سمجھ دار شخص کی طرح بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ’سرکار سے دور رہو بس‘۔ انہیں نہ تو بھارتیہ جنتا پارٹی سے نفرت ہے اور نہ ہی کانگریس پارٹی سے بہت زیادہ امیدیں‘۔

"مسلمانوں کی بستی کے درمیان سے گیس پائپ لائن گزاری گئی ہے۔ لیکن ہماری بستی میں گیس کنکشن نہیں دیا جا رہا ہے حالانکہ بستی کے لوگ اس کے لیے رقم دینے کے لیے تیار ہیں۔"

خان صاحب

شہر میں ’ایچ یعنی ہندو اور ایم یعنی مسلمان‘ کے درمیان تفریق کی مثال دیتے ہوئے خان صاحب کہتے ہیں کہ وہ شہر کے ایک مسلم آبادی والے علاقے میں رہتے ہیں۔ اس بستی کے درمیان سے گیس پائپ لائن گزاری گئی ہے۔ لیکن ’ہماری بستی میں گیس کنکشن نہیں دیا جا رہا ہے حالانکہ بستی کے لوگ اس کے لیے رقم دینے کے لیے تیار ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ بڑی سہولیات کی تو بات ہی کیا ’ہمارے محلے کی سڑک پر گاڑیاں تیز رفتار سے چلتی ہیں جس کی وجہ سے کئی حادثات ہوچکے ہیں لیکن متعدد بار حکومت سے درخواست کرنے کے بعد بھی یہاں سپیڈ بریکرز نہیں بنائے گئے ہیں‘۔

وہ اپنے ایک دوست کا ذکر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ان کا دوست کسی کمپنی میں کام کرتا تھا جس کا مالک ہندو تھا۔ کمپنی کسی وجہ سے بند ہوگئی۔ کمپنی میں کام کرنے والے ’سبھی ہندو لڑکوں کی نوکری لگ گئی لیکن ان کے دوست کی نوکری کہیں نہیں لگی کیونکہ وہ ایک مسلمان تھا‘۔

خان گجرات میں مسلمانوں کے حالات کے بارے میں صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ بس ’بچ کے چلو، بچ کے چلو‘۔

خان سے بات کرنے کے بعد میں نے جیو بھائی سے بات کی۔ جیو بھائی کی عمر چونسٹھ برس ہے اور وہ مودی سے بے حد خوش ہیں۔

’مودی کے سوا کون ہے؟‘

جیو بھائی

چونسٹھ سالہ جیو بھائی سریندر نگر ضلع کے چوٹیلا تالوکا علاقے میں آٹو رکشہ چلاتے ہیں۔ عمر کے اس مرحلے میں بھی جیو بھائی صبح سے شام تک آٹو چلاتے ہیں اور ان کی زندگی ایک مشکل زندگی ہے۔

جیو بھائی بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے کام شروع کیا تھا پہلے پندرہ برسوں میں کھیتی باڑی کی لیکن ان کا خاندان بڑا تھا اس لیے کھیتی باڑی سے کچھ نہیں ہوا تو انہوں نے ٹرک چلایا اور پورے بائیس سال ٹرک چلایا۔

جيو بھائی کہتے ہیں کہ اس دوران ’بچہ نہ ہونے کی وجہ سے بیوی کا دماغی توازن خراب ہوگیا‘ اور انہیں گھر واپس آنا پڑا۔ گھر آنے کے بعد انہوں نے سائیکل کی دکان کھول لی۔

زندگی کی گاڑی پٹری پر آئی ہی تھی کہ پھر قسمت نے نیا موڑ لیا اور جيو بھائی کے پانچ چھوٹے بھائیوں میں سے ایک بے روزگار ہوگیا۔ جيو بھائی اسے دکان سونپ کر الگ ہوگئے۔

"جس سڑک پر آپ چل رہے ہیں وہ مودی بھائی کی دین ہے۔ یہاں بجلی چوبیس گھنٹے آتی ہے۔ پوری دنیا میں لوگ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے زیادہ مودی کو جانتے ہیں۔ یہاں تک کہ میری بیوی جس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔"

جيو بھائی

جيو بھائی محنتی شخص ہیں اس لیے انہوں نے بڑھاپے میں آٹو رکشہ چلانا شروع کردیا اور اب وہی ان کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔

جيو بھائی کی گجرات کی دولت میں شرکت بھلے زیادہ نہ ہو لیکن گجرات کی سیاست میں ان کی پوری حصہ داری ہے۔

سیاست کی بات کرو تو ایک بات ہی کہتے ہیں ’مودی کے علاوہ ہے کون؟‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ نریندر مودی کو دیوانگی کی حد تک پسند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نریندر مودی کے علاوہ کسی اور کی بات کبھی نہیں سنیں گے۔

لیکن اس دیوانگی کی وجہ کیا ہے؟ مودی نے کیا دیا؟ انہوں نے کیا ایسا کیا؟

جيو بھائی جواب دیتے ہیں ’جس سڑک پر آپ چل رہے ہیں وہ مودی بھائی کی دین ہے۔ یہاں بجلی چوبیس گھنٹے آتی ہے۔ پوری دنیا میں لوگ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے زیادہ مودی کو جانتے ہیں۔ یہاں تک کہ میری بیوی جس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔