ویزا کی نرم شرائط پر عملدرآمد شروع

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 دسمبر 2012 ,‭ 20:36 GMT 01:36 PST
واہگہ بارڈر

نئے نظام میں پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو واہگہ اٹاری چیک پوسٹ پر ویزا جاری کرنے کی سہولت بھی شامل ہے

بھارت اور پاکستان کے درمیان ویزا کی نرم شرائط کے معاہدے پر آخرکار عمل درآمد شروع ہوگیا ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان سفر کافی آسان ہوجائے گا۔

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک اور ان کے بھارتی ہم منصب سشیل کمار شنڈے نے آج دلی میں ایک تقریب میں نئے معاہدے کے اطلاق کا اعلان کیا۔

اگرچہ ویزا کے نئے معاہدے پر ستمبر میں دستخط کیے گئے تھے لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد شروع نہیں ہوا تھا کیونکہ رحمان ملک سیاسی سطح پر اس کا آغاز کرنا چاہتے تھے۔

مسٹر رحمان ملک بھارت کے تین روزہ دورے پر ہیں اور ان کے پروگرام میں وزیر اعظم من موہن سنگھ اور لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سواراج سے بھی ملاقات شامل ہے۔

نئے نظام میں پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو واہگہ اٹاری چیک پوسٹ پر ویزا جاری کرنے کی سہولت بھی شامل ہے لیکن اس پر آئندہ برس پندرہ جنوری سے عمل شروع ہوگا۔ گروپ ویزا پندرہ مارچ سے جاری کیے جائیں گے۔

نئے نظام میں اب تین کی جگہ پانچ شہروں کے لیے ویزا مل سکے گا اور پینسٹھ سال سے زیادہ عمرکے مسافروں، اور ایسے لوگوں کو جن کی شادی سرحد پار ہوئی ہے، دو سال کا ویزا جاری کرنے کی بھی گنجائش ہوگی۔

واہگہ اٹاری چیک پوسٹ پر جاری کیے جانے والے ویزا کی مدت پینتالیس دن ہوگی اور یہ سنگل اینٹری ویزا ہوگا۔

اس کے علاوہ مسافروں پر اسی چیک پوسٹ سے واپس جانے کی پابندی نہیں ہوگی جس سے وہ ملک میں داخل ہوئے تھے۔ لیکن انہیں یہ بات اپنی ویزا کی درخواست میں لکھنی ہوگی۔

دونوں ملکوں میں سول سوسائٹی کے نمائندے کافی عرصے سے ویزا کی شرائط میں نرمی کا مطالبہ کر رہے تھے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان فاصلے کم کیے جاسکیں۔ ویزا کے نظام کا افتتاج کرتے ہوئے مسٹر رحمان ملک نے بھی کہا کہ وہ پاکستان سے محبت کا پیغام لیکر آئے ہیں اور نئے معاہدے سے قیام امن کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔