’ٹھوس ثبوت ملے تو حافظ سعید کی گرفتاری کا حکم دے دوں گا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 دسمبر 2012 ,‭ 14:34 GMT 19:34 PST
پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک

رحمان ملک بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کریں گے

بھارت اور پاکستان کے درمیان نرم ویزا پالیسی کے نفاذ کے اعلان کے لیے پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک بھارت کے تین روزہ دورے پر دلی پہنچے ہیں۔

پاکستانی وزیر داخلہ نے ایئرپورٹ پر صحافیوں سے بات چيت کرتے ہوئے کہ وہ ’صاف نیت‘ کے ساتھ دلی آئے ہیں اور اگر حکومت ہند نے انہیں ٹھوس شواہد فراہم کیے تو وہ ’یہیں سے‘ حافظ محمد سعید کی گرفتاری کا حکم دے دیں گے۔

رحمان ملک چار گھنٹے کی تاخیر سے دلی پہنچنے کے بعد نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ممبئی پر دو ہزار آٹھ کے حملوں کے سلسلے میں حافظ محمد سعید کو بھی گرفتار کیا گیا تھا لیکن ہندوستان کی فراہم کردہ معلومات سے عدالتیں مطمئن نہیں ہوئیں۔

اس موقع پر ان سے زیادہ تر سوال ممبئی پر حملوں کے سلسلے میں ہی کیے گئے۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ دہشتگردی کی مذمت کی ہے۔

’ہم نے سب سے زیادہ اس کا نقصان بھی اٹھایا ہے۔ ہم نے چالیس ہزار معصوم جانیں کھوئی ہیں۔ میں ان لوگوں کے ساتھ اظہار تعزیت کرنا چاہتا ہوں جن کے عزیز اس حملے میں مارے گئے تھے۔ لیکن حملہ آور نان سٹیٹ ایکٹر تھے۔‘

رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان قیام امن کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ ’ذرا پانچ سال پہلے سے آج کے حالات کا موازنہ کیجیے۔ لیکن عدالتی طور طریقوں کو تو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اگر ہم سات لوگوں کو گرفتار کر سکتے ہیں تو ہمیں حافظ سعید کو پکڑنے میں کیا دشواری ہے؟‘

"ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ اور سب سے زیادہ اس کا نقصان بھی اٹھایا ہے۔ ہم نے چالیس ہزار معصوم جانیں کھوئی ہیں۔ میں ان لوگوں کے ساتھ اظہار تعزیت کرنا چاہتا ہوں جن کے عزیز اس حملے میں مارے گئے تھے۔ لیکن حملہ آور نان سٹیٹ ایکٹر تھے۔"

رحمان ملک ویزا کی شرائط میں نرمی کے معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے تین روزہ دورے پر ہندوستان آئے ہیں لیکن ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ سشیل کمار شندے بات چیت کے دوران ممبئی کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہچانے میں تاخیر کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔

رحمان ملک بھارت میں اپنے قیام کے دوران وزیر اعظم منموہن سنگھ اور لوک سبھا میں حزب اخلاف کی لیڈر سشما سوراج سے بھی ملاقات کریں گے۔

پاکستانی وزیر نے کہا کہ وہ ’ پاکستانی عوام کی طرف سے امن کا پیغام لیے کر آئے ہیں اور ویزا کے نئے نظام کے عمل میں آنے سے باہمی تعلقات کو زبردست فروغ حاصل ہوگا۔‘

دونوں ملکوں نے ویزا کی شرائط میں نرمی کے معاہدے پر ستمبر میں دستخط کیے تھے لیکن رحمان ملک سیاسی سطح پر اس کا افتتاح کرنا چاہتے تھے جس کی وجہ سے اب تک نیا نظام عمل میں نہیں آیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔