’ممبئی حملوں کی گہرائی سے تفتیش کریں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 17 دسمبر 2012 ,‭ 17:28 GMT 22:28 PST
رحمان ملک

رحمان ملک کے بھارتی دورے پر میڈیا کی کافی توجہ رہی

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے ممبئی حملے کے سلسلے میں بھارت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کرے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ اس کے پیچھے کون ہے۔

دلی میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار صلاح الدین زین کے ساتھ ایک خصوصی انٹریو میں انہوں نے کہا کہ ممبئی حملے کا ایک اہم ملزم بھارتی شہری ذبیح الدین انصاری ہے تو وہ آخر پاکستان کیسے پہنچ گيا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بندے آپ کے پاس ہیں، ابو جندل جو یہاں کا ایک کرمنل تھا، ایک انٹیلجنٹس کی سورس انفارمیشن میں رہی ہے، وہ پاکستان کیسے آگیا؟ دوسرے دو اور پاکستان میں کیسے آگئے، پھر ڈیوڈ ہیڈلی کہاں سے آ ٹپکا؟ وہ تینوں نے مل کے ایک حملہ کیا اور اتنے لوگ مار دیے تو اس کے پیچھے کوئي اور ہاتھ تو نہیں کار فرماں ؟ تو یہ ساری چیزیں سوچنے کی باتیں ہیں۔‘

رحمان ملک نے کہا کہ جہاں تک حافظ سعید کا تعلق ہے تو وہ پہلے بھی یقین دلاتے رہے ہیں اور پھر تاکید سے کہتے ہیں کہ اگر بھارت نے کوئي ثبوت فراہم کیے تو بلا تاخیر کارروائي کی جائیگي۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا بھارت اور پاکستان کے درمیان متناز‏ع معاملات پر پیش رفت میں حافظ سعید بڑا رخنہ ہیں، انہوں نے کہا کہ ’دونوں ممالک کی حکومتیں اس مسئلے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مروجہ اصول یہ ہے کہ عدالتوں کے فیصلے کو ممالک تسلیم کرتے ہیں اور جب اجمل قصاب کو پھانسی دی گئی تو ہم نے بھارتی عدلیہ کے فیصلے کو تسلیم کیا۔’حافظ سعید کو میں نے نہیں چھوڑا، میرے وزیراعظم یا میرے کسی آئی جی نے نہیں چھوڑا بلکہ عدالت نے رہا کیا ہے اور تین بار چھوڑا۔ پھر بھی ہم بھارت سے کہہ رہے ہیں کہ شواہد فراہم کریں انہیں گرفتار کیا جائیگا۔‘

رحمان ملک بھارت کے تین روزہ دورے پر تھے اور دِلّی میں انہوں نے اپنے بھارتی ہم منصب سوشِل کمار شِندے سے کئی اہم امور پر بات چيت کی۔

"بندے آپ کے پاس ہیں، ابو جندل جو یہاں کا ایک کرمنل تھا، ایک انٹیلجنٹس کی سورس انفارمیشن میں رہی ہے، وہ پاکستان کیسے آگیا؟ دوسرے دو اور پاکستان میں کیسے آگئے، پھر ڈیوڈ ہیڈلی کہاں سے آ ٹپکا؟ وہ تینوں نے مل کے ایک حملہ کیا اور اتنے لوگ مار دیے تو اس کے پیچھے کوئي اور ہاتھ تو نہیں کارفرماں ؟ تو یہ ساری چیزیں سوچنے کی باتیں ہیں۔"

رحمن ملک

بات چيت میں رحمان ملک نے کہا بھارت اور پاکستان کے درمیان اب پہلے سے حالات بہت بہتر ہیں اور کئي شعبوں میں اچھی پیش رفت ہوئي ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب ایک دوسرے پر الزام تراشی میں کمی آئی ہے، تجارتی روابط میں اضافہ ہوا ہے، خارجی امور کے معاملات میں اچھی پیش رفت ہوئي ہے۔ کمپوزٹ ڈائیلاگ آگے بڑھا ہے اور پانی کے مسائل پر بات ہورہی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ میرے آنے سے اور ویزا پالیسی کے اعلان سے دونوں ممالک میں جو گھٹن اور وسوسے تھے اس میں کمی ہوتے آپ دیکھیں گے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے ان کی ملاقات بہت اچھی تھی اور انہوں نے ایک بار پھر پاکستان آنے کی دعوت دی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام منموہن سنگھ کو بہت پسند کرتی ہے اور اس کی خواہش ہے کہ وہ اپنے آبائي گاؤں کا دورہ کریں ' اور اگر ایسا نا ہوا تو عوام کو اس سے مایوسی ہوگی۔ ہم انہیں آنے پر زرو کسی خاص مقصد کے لیے نہیں بلکہ پیار و محبت کے اظہار کے لیے دے رہے ہیں'۔

آخر میں میں نے انہیں اس بات کی مبارک باد پیش کی کہ پاکستان میں پہلی بار منتخب حکومت نے پانچ برس مکمل کر لیے اور پوچھا کہ اس درمیان جمہوریت تو پروان چڑہی لیکن ایک تاثر یہ بھی ہے کہ انتہا پسندی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اس پر رحمان ملک نے کہا کہ یہ سب انہیں ورثے میں ملا تھا اور اس پر قابو پانے کے لیے حکومت نے بہت سے اہم فیصلے کیے ہیں جس کے نتائج سامنے آرہے ہیں اور کمی بھی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ اس سمت میں حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں اس سے مستقبل میں یہ مسئلہ بھی ختم ہوجائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔