کشمیر: جھڑپ میں چار عسکریت پسند ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 12:37 GMT 17:37 PST
کشمیر میں تصادم کی ایک فائل فوٹو

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سوپور میں یہ دوسری بڑی جھڑپ ہوئی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کمشیر کے سوپور قصبےمیں طویل تصادم کے بعد چار مسلح عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق چاروں عسکریت پسندوں کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے جن میں سے ایک مقامی رہائشی تھا جبکہ باقی پاکستانی تھے تاہم ان کی شناخت نہیں کی گئی ہے۔

یہ جھڑپ سری نگر سے جنوب کی جانب ساٹھ کلومیٹر دوُر سوپور کے سّید پورہ علاقہ میں ہوئی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوج کی طرف مارٹر شیلنگ کے نتیجے میں دو رہائشی مکان تباہ ہوگئے۔

پچھلے ایک ہفتے کے دوران سوپور میں یہ دوسری بار جھڑپ ہوئی ہے۔تیرہ دسمبر کو سوپور کے ہی چیر ہار علاقہ میں تین عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

سوپور میں تعینات پولیس کے اعلیٰ افسر امتیاز حُسین نے بی بی سی کو بتایاکہ’خفیہ اطلاع ملی تھی کہ غلام محمد ڈار کے مکان میں عسکریت پسند چھپے ہوئے ہیں۔ مکان کا محاصرہ کرنے کے بعد انہیں ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا گیا لیکن انہوں نے فائرنگ کی۔ جوابی کارروائی میں ابھی تک چار عسکریت پسند مارے گئے ہیں‘۔

امتیازحُسین کے مطابق مزید دو یا تین عسکریت ابھی بھی چھپے ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مارے گئے عسکریت پسندوں میں سے ایک کی شناخت اطہر علی ڈار کے طور پر ہوئی ہے جو ماڈل ٹاون سوپور کے رہائشی محمد یوسف ڈار کا بیٹا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوع پر ابھی بھی محاصرہ ہے، اور خدشہ ہے کہ مزید مسلح عسکریت پسند وہاں موجود ہو سکتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے سوپور میں مقامی نوجوانوں کی مدد سے لشکر طیبہ نے مسلح سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق فوج اور پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر میں سوپور عسکریت پسندوں کی آماجگاہ بن گیا تھا اسی لیے حکومت نے پانچ لاکھ کی آبادی والے اس قصبے میں ایک علیحدہ پولیس ڈسٹرکٹ قائم کیا ہے۔

ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایاکہ’عسکریت پسند پاکستانی زیرانتظام کشمیر سے سرحد عبور کر کے یہاں آتے ہیں اور یہاں سے بانڈی پورہ یا سری نگر جاتے ہیں‘۔

قابل ذکر ہے کہ مقامی وزیراعلیٰ عمرعبداللہ حکومت ہند سے فوجی قوانین کے خاتمہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں مسلح تشدد کا تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے اس لیے یہاں سخت قوانین کی ضرورت نہیں ہے۔

واضح رہے گزشتہ ہفتے بھارتی زیرانتظام کشمیر کے لداخ خطے میں سیاچن گلیشئر پر برفانی تودے کی زد میں آ کر چھہ فوجی اہلکار مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔