دلی ریپ: سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 دسمبر 2012 ,‭ 09:23 GMT 14:23 PST

خواتین کی مختلف تنظیمیں نے اس کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں

بھارتی دارالحکومت دلی کی ہائي کورٹ نے دلی پولیس کو حکم دیا ہے کہ بس میں مبینہ طور پر اجتماعی جنسی زيادتی کا شکار ہونے والی طالبہ کے معاملے کی تفتیشی رپورٹ دو روز کے اندر پیش کی جائے۔

عدالت نے یہ احکامات بدھ کو خواتین وکلاء کی ایک درخواست پر دیے جس میں اس معاملے کی عدالتی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

عدالت نے اس بارے میں خواتین وکلاء کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس ’شرمناک‘ واقعہ پر توجہ دے رہی ہے۔ ہائي کورٹ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کا پولیس اور عدلیہ سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ اس کیس کی جلد سماعت کے لیے پانچ مختلف فاسٹ ٹریک عدلتیں تشکیل دی جائیں گي اور پولیس سے پوچھا ’اس واقعے سے پہلے آخر وہ کہاں تھی؟‘

بدھ کے روز اس واقعے کے خلاف دارالحکومت دلی کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

سب سے پہلے پارلیمان کے باہر ارکان پارلیمان نے اس کے خلاف ایک علامتی مظاہرہ کیا اور حکومت سے خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی سزا میں اضافے کی ضرورت ہے۔

وزیرِ داخلہ سشیل کمار شندے نے ایوان میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سزا سے متعلق قانون میں ترمیم کا ایک بل بہت پہلے سے موجود ہے جسے جلد ہی متعارف کیا جائےگا۔

خواتین کی مختلف تنظیموں اور یونیورسٹیز کی طلباء یونین نے بھی دلی پولیس کے ہیڈ کوارٹر کے باہر مظاہرہ کیا اور پولیس کے خلاف نعرہ بازي کی۔

اسی طرح کے ایک دیگر گروپ نے وزیر اعلی شیلا دکشت کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کیا جسے منتشر کرنے کے لیے پولیس نے تیز دھار پانی کا استمعال کیا۔

ملک کے بعض دیگر علاقوں میں بھی اس واقعے کے پس منظر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں اور لوگوں میں زبردست غم و غصہ دیکھا گيا ہے۔

"یہ شرم کی بات ہے کہ ملک کے دارالحکومت میں ایک لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ مجرموں کی تلاش کر کے انہیں فوری طور پر سزا دی جائے۔"

سونیا گآندھی

ادھر زیادتی کا شکار ہونے والی طالبہ کی حالت اب بھی نازک ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی وینٹی لیٹر پر ہی ہیں۔

جنسی زيادتی کے ساتھ ساتھ لڑکی کے ساتھ مار پیٹ بھی کی گئی تھی اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں شدید چوٹیں آئی ہیں۔

دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بيڈي اتھاني کا کہنا ہے کہ ’لڑکی کی حالت اب بھی نازک ہے لیکن وہ ہوش میں ہیں اور لکھ کر اپنی بات بتا رہی ہیں‘۔

منگل کی شام کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی نے متاثرہ لڑکی سے ملاقات کے لیے ہسپتال کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت کو اس معاملے میں سخت سے سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

سونیا گاندھی نے اس سلسلے میں وزیر داخلہ سشیل کمار شندے، دہلی کی وزیر اعلی شیلا دکشت اور نیشنل خواتین کمیشن كي صدر ممتا شرما کو ایک سخت خط بھی لکھا ہے۔

وزیر داخلہ کو لکھےگئے خط میں سونیا گاندھی نے لکھا ہے کہ ’یہ شرم کی بات ہے کہ ملک کے دارالحکومت میں ایک لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔' انہوں نے کہا کہ مجرموں کو تلاش کر کے انہیں فوری طور پر سزا دی جائے‘۔

اس دوران اجتماعی جنسی زيادتی کرنے والے چھ ملزمان میں سے چار کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور منگل کو انہیں پانچ دن کے لیے پولیس حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔ دو ملزم اب بھی فرار ہیں اور پولیس انہیں تلاش کر رہی ہے۔

یہ واقعہ اتوار کی رات ساڑھے نو بجے کے آس پاس اس وقت پیش آیا تھا جب مذکورہ لڑکی اور اس کا ایک دوست چارٹرڈ بس میں سوار ہوئے تھے۔ اسی بس میں سوار کچھ افراد نے لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کی، پھر دونوں کو مارا پیٹا گیا اور لڑکی سے جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد دونوں کو بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔