زائرین کے سکے، بچوں کی کمائی کا ذریعہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 دسمبر 2012 ,‭ 13:46 GMT 18:46 PST

مقناطیسی چھلوں اور رنگین پلاسٹک کی رسیوں سے بنا کنڈا لیے، روہیت صبح پانچ بجے سے شام پانچ بجے تک کام کرتا ہے

بھارت کی مشرقی ریاست بہار کے دریائے گنڈک کے کنارے دس سالہ روہیت کمار صبح سے شام تک بیٹھتا ہے۔ اٹھائیس نومبر کے بعد سے وہ ہر روز دریا سے سکے تلاش کرتا ہے۔

بھارت میں ہر سال ایک ماہ کے لیے سون پور کے میلے کا انعقاد کیا جاتا ہے جو پورے ایشیاء میں مویشیوں کا سب سے بڑا میلہ ہوتا ہے۔

اس میلے میں شرکت کرنے والے زائرین دریا میں سکے پھینکتے ہیں اور روہیت کمار کا شمار ان ہزاروں لڑکوں میں ہوتا ہے جو دریا سے زائرین کے پھینکے ہوئے سکے جمع کرتے ہیں۔

مقناطیسی چھلوں اور رنگین پلاسٹک کی رسیوں سے بنا کنڈا لیے، روہیت صبح پانچ بجے سے شام پانچ بجے یہ تک کام کرتا ہے۔ روہیت کا کہنا ہے ’میں ہر روز سو روپے نکالتا ہوں اور میری ماں میری اس کوشش سے خوش ہے۔‘

روہیت دریا سے نکالے جانے والے پیسے اپنے والدین کو دیتا ہے تاکہ چھ افراد پر مشتمل خاندان کی کفالت میں مدد کر سکے۔اس نے دو سال قبل اپنے گاؤں کے لڑکوں کو دریا پر جاتا دیکھ کر خود بھی جانا شروع کیا۔

’ مجھے تجسس تھا۔ میں ایک دن ان کے ساتھ چلا گیا اور ان سے سکے نکالنے کا گُر سیکھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی ماں سے دس روپے اس شرط پر اُدھار لیے تھے کہ شام تک دوگنے روپے واپس کریں گے۔ روہیت نے ان پیسوں سے سکے نکالنے کے لیے کنڈا بنایا تھا۔

روہیت کے باپ یومیہ مزدور ہیں اور اگر مزدوری مل جائے تو وہ بھی روزانہ سو روپے ہی کما پاتے ہیں۔

مویشی میلے کے آغاز پر ہزاروں ہندو یاتری سارن ضلع میں سون پور کے مقام پر آشنان کرتے ہیں۔ اس مقام پر دریائے گنگا اور گنڈک کا ملاپ ہوتا ہے۔

میلے میں شریک زائرین اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے دریا میں سکے پھینکتے ہیں۔ جیسے ہی دریا میں سکے پھینکے جاتے ہیں ویسے ہی یہ نوجوان لڑکے دریا میں مقناطیس پھینک کر سکے نکال لیتے ہیں۔

سکے نکالنے والے ایک اور لڑکے راکیش کمار کہتے ہیں’میں زیادہ تر ایک دن میں ڈیڑھ سو سکے نکال پاتا ہوں اور میرا خاندان ان پیسوں سے خوراک خریدتا ہے۔‘

راکیش کے والد سوریش رائے میلے میں چائے کا سٹال لگاتے ہیں اور ان کی بہن بیتو کمار بھی اپنے بھائی کے ساتھ دریا پر جاتی ہیں۔

راکیش کے دوست کرشنا بھی دریا سے سکے نکالنے کا کام کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ میں دس گھنٹے دریا کے کنارے پر گزارتا ہوں اور میری نظریں دریا میں موجود سکوں پر مرکوز ہوتی ہیں۔ بعض اوقات مجھے سکے مل جاتے ہیں اور بعض اوقات میں ان سکوں کو دوستوں کے لیے چھوڑ دیتا ہوں۔‘

میلے میں شریک اپنے مذہبی عقائد ادا کرنے والے رادھےشام پانڈے کا کہنا ہے ’ میلہ شروع ہونے پر ہزاروں لڑکے سکے جمع کرنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ وہ پانی سے سکے نکالنے کے لیے سادہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔‘

دریا کے کنارے مذہبی رسومات کی ادائیگی میں استعمال ہونے والی چیزیں فروخت کرنے میں مصروف مہیندر بابو کہتے ہیں ’سکے جمع کرنے والے کم عمر بچے مختلف رنگوں کی رسیاں اور مختلف سائز کے مقناطیس استعمال کرتے ہیں لیکن ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ یہ سب غریب ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔