دلی ریپ: ایوان صدر پر مظاہرہ، انصاف کی مانگ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 دسمبر 2012 ,‭ 13:54 GMT 18:54 PST
ریپ کے خلاف مظاہرہ

دلی میں ریپ کے خلاف مظاہرے جاری ہیں

بھارت کے دارالحکومت دِلّی میں اتوار کو چلتی ہوئی بس میں ایک تئیس سالہ طالبہ کے ساتھ ہونے والے اجتماعی ریپ کے خلاف خواتین اور طلبہ تنظیموں نے مظاہرہ کیا ہے۔

دلی میں مظاہرہ راشٹر پتی بھون یعنی ایوان صدر کے پاس کیا گیا جب کہ اس کے علاوہ جنتر منتر اور انڈیا گيٹ پر بھی احتجاج ہوا ہے۔ مظاہرہ کرنے والی خواتین اور طلبہ تنظیموں نے اجتماعی ریپ کی شکار لڑکی کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔

بنگلور اور کولکتہ جیسے شہروں میں بھی اس کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکلے اور بعض مقامات پر دعائیہ تقریبات منعقد کی گئیں۔

واضح رہے کہ اس طالبہ کا دِلّی کے سب بڑے سرکاری ہسپتال صفدر جنگ میں علاج جاری ہے اور گزشتہ روز ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ ان کی حالت اگرچہ نازک ہے لیکن ان میں بہتری کے آثار ہیں۔

راشٹرپتی بھون کے سامنے مظاہرہ کرنے والی خواتین میں کئی غیر ملکی خواتین بھی شامل ہیں جو’ہمیں انصاف چاہیے، ہمیں انصاف چاہیے‘ کا نعرہ لگا رہی تھیں۔

مظاہرین نے انسانی زنجیر بناکر ایوان صدر کے سامنے مظاہرہ کیا۔ ان کا الزام ہے کہ ریپ جیسے معاملے پر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔

دریں اثناء عام پارٹی کے سربراہ اور بھارت میں بدعنوانی کے خلاف لڑنے والی نمایاں شخصیتوں میں سے ایک اروند کیجری وال نے بھی اس معاملے پر جنتر منتر پر مظاہرہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کا مسئلہ

"یہ حملہ بھارت کی تمام خواتین پر حملہ ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد صرف خواتین کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔"

این ایف سٹے ہیمر

اسی دوران دِلّی پولیس نے اس ریپ کیس میں پانچویں ملزم کو بھی پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس معاملے میں پہلے ہی چار لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ریپ کا شکار طالبہ کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہر چند کہ ان کی حالت نازک ہے لیکن ان میں زندگی کی بے مثال لگن موجود ہے اور وہ جینا چاہتی ہیں۔

وہ ابھی بول نہیں سکتیں کیونکہ ابھی اس کے منہ میں نلکی لگی ہوئی ہے، فی الحال وہ صرف کاغذ پر لکھ کر بات کر سکتی ہیں۔

بھارت کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئي کے مطابق جمعرات کو ان کے گھر کے افراد نے کہا کہ ’اسے علم ہے کہ اس کے معاملے کو میڈیا نے اٹھایا ہے اس کے بعد اس نے اپنے خاندان کے افراد سے پوچھا کہ کیا ملزمان پکڑے گئے۔‘

اس سے قبل بدھ کے روز لڑکی نے ڈاکٹروں سے کہا تھا کہ ’میں جینا چاہتی ہوں۔‘ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے کئی آپریشن ہو چکے ہیں اور انہیں اس کی آنتیں نکالنا پڑی ہیں۔‘

دریں اثناء اقوام متحدہ نے بھی اس واقعے کی کڑے الفاظ میں مذمت کی ہے۔

انصاف کی مانگ

لوگ اس معاملے میں فوری انصاف کی مانگ کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے ’ویمن‘ کے علاقائی پروگرام کی ڈائریکٹر این ایف سٹے ہیمر نے کہا کہ ’یہ حملہ بھارت کی تمام خواتین پر حملہ ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد صرف خواتین کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم حکومت دِلّی اور حکومت ہند سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ بڑی تبدیلی کے لیے تمام تر ممکنہ اقدام اٹھائیں، انصاف کی یقین دہانی کرائیں اور خواتین کی حفاظت میں بہتری لانے کے لیے شہری خدمات میں بہتری لائیں۔‘

ادھر دِلّی کی وزير اعلیٰ شیلا دیکشت نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو حکومت علاج کے لیے انہیں بیرونی ملک بھی لے جانے کے لیے تیار ہے۔

میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا ہے ’یہ صرف دِلّی کی حکومت ہی نہیں بلکہ مرکزی حکومت کا بھی کہنا ہے کہ ایک بار ان کی حالت مستحکم ہو جائے اور وہ خطرے سے باہر آجائیں تو ڈاکٹر جہاں بھی کہیں گے، ہم انہیں علاج کے لیے لے جائیں گے۔‘

گزشتہ روز دِلّی ہائي کورٹ نے دِلّی پولیس کو حکم دیا تھا کہ بس میں اجتماعی جنسی زيادتی کا شکار ہونے والی طالبہ کے معاملے کی تفتیشی رپورٹ دو روز کے اندر پیش کی جائے۔

ہائي کورٹ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کا پولیس اور عدلیہ سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ عدالت نے اس کیس کی جلد سماعت کے لیے پانچ مختلف فاسٹ ٹریک عدالتیں تشکیل دینےکا اعلان کیا تھا۔

اس دوران جمعرات کے روز اس واقعے کے خلاف دارالحکومت دِلّی کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔