کشمیر: ’چھ عسکریت پسند ہلاک‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 دسمبر 2012 ,‭ 17:55 GMT 22:55 PST
کشمیر

شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ میں طویل مسلح تصادم کے بعد چھہ عسکریت پسند مارے گئے۔

پولیس کے مطابق ان میں پانچ پاکستانی تھے اور ایک سوپور کا ہی رہنے والا عاطر احمد تھا۔ سولہ سالہ عاطر دو ہزار دس کی غیرمسلح تحریک میں شامل ہوا اور پتھراؤ کے کئی واقعات میں پولیس کو مطلوب تھا۔

اس کے والدین کا کہنا ہے کہ عاطر گرفتاری کے بعد رہا ہوا تو وہ مزید تعلیم کے لیے امریکہ جانا چاہتا تھا۔ عاطر کی والدہ سارہ بیگم کہتی ہیں ’پتھراؤ بند ہوگئے اور عاطر نے جیل بھی کاٹی، لیکن پولیس نے اس کا جینا حرام کردیا۔ جولائی میں اس کو حراست کے دوران اذیتیں دی گئیں، انھوں نے کہا ’میرے بیٹے کو پولیس نے ہی تشدد کی طرف دھکیلا‘۔

سوپور کے ایک اعلیٰ پولیس افسر امتیاز حسین نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد پولیس نے عاطر کا تعاقب نہیں کیا۔ مسٹر حسین کے مطابق عاطر کی بہن جنوبی قصبہ ترال میں بیاہی گئی ہے۔ یہ لڑکا وہیں لشکر طیبہ کے رابطے میں آیا اور بعد میں اس نے تشدد کی کئی کارروائیاں کیں۔

واضح رہے سوپور میں گزشتہ روز ہوئے تصادم کے دوران پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں نے دو رہائشی مکانوں کو مارٹرگولوں کی مدد سے تباہ کردیا۔

مقامی باشندوں نے بتایاکہ تلاشی مہم کے دوران غلام محمد ڈار کے میوہ باغ کو بھی ٹریکٹر سے کھودا گیا۔ غلام محمد نے بتایا کہ ’آٹھ کنال کا یہ باغ ہم دوبارہ لگانے کی کوشش بھی کریں تو بائیس سال بعد نئے پودے پھل دیں گے۔‘

عاطر

مرنے والے چھ عسکریت پسندوں میں عاطر بھی شامل تھا۔

سوپور کے نائب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سّیدحنیف بلخی نے اعتراف کیا کہ تصادم کے دوران دو رہائشی مکان تباہ ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت دس لاکھ روپے کا معاوضہ دے گی، لیکن ان لوگوں کو جو نفسیاتی نقصان پہنچا ہے اس کی تلافی ایک کروڑ روپے سے بھی نہیں ہوسکتی۔‘

پچھلے چار سال کے دوران کشمیر میں غیرمسلح احتجاج کا رجحان بڑھا ہے۔ تاہم تین سال تک پرامن مظاہروں کے دوران دو سو افراد مارے گئے۔

لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک پچھلے کئی سال سے حکومت ہند کو خبردار کررہے ہیں کہ پتھراؤ کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے نوجوانوں پر پولیس کا عتاب انہیں دوبارہ تشدد کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ انہوں نے پچھلے سال غیرمسلح تشدد کے دوران مارے گئے نوجوانوں کے لیے انصاف مانگنے کی غرض سے عدالت میں ایک درخواست بھی داخل کی تھی۔

انسانی حقوق کے ادارے ’کولیشن آف سول سوسائیٹیز‘ کے ترجمان خرم پرویز کہتے ہیں کہ ’اب تو ملی شدت پسند ٹارچر سینٹروں میں بنتے ہیں، عاطر جیسے مزید تین نوجوانوں کا بھی ایسا ہی انجام ہوا۔ انہوں نے احتجاج کے دوران پتھر مارا اور بعد میں پولیس نے ان کے حالات ایسے بنائے کہ انہوں نے بندوق اُٹھائی۔‘

عاطر کی والدہ سارہ بیگم

' پولیس نے لڑکے کا جینا حرام کر دیا تھا'

دریں اثنا ’کشمیر سنگ باز لیگ‘ کے نام سے ایک روپوش گروپ نے سات صفحات پر مشمتل ایک بیان جاری کیاہے۔ بیان میں حکومت ہند کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر افضل گورو کو سزائے موت دی گئٰی تو کشمیر میں بھارتی فوج، فورسز اور بھارتی اداروں کے خلاف عوامی احتجاج کی ہمہ گیر تحریک چلائی جائے گی۔

بیان میں سید علی گیلانی اور مسلح رہنما سید صلاح الدین کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ پولیس اور دوسرے سرکاری اداروں یا تنظیموں میں موجود ان افراد کی نشاندہی کریں جو ’کشمیر میں بھارتی قبضہ کو دوام بخشتے ہیں۔‘

سنگباز لیگ نے تمام بھارتی شہریوں کو کشمیر چھوڑنے کو کہا ہے۔ بیان کے مطابق ’وہ لوگ آزادی کے بعد پاسپورٹ پر کشمیر آسکتے ہیں۔‘

اکثر مبصرین کا کہنا ہے کہ پچھلے دو سال کے دوران کشمیر میں مجموعی طور پر خاموشی کے باوجود حکومت نے انصاف کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا۔

بھارتی صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن گوتم نولکھا کہتے ہیں کہ ’جو مظالم ہوئے ہیں ان کی نشاندہی ہوچکی ہے۔ لیکن انصاف کا نام و نشان نہیں۔ مظالم سے ہی تو شدت پسند بنتا ہے، حکومت ہند کیوں دوسروں کو الزام دیتی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔