ہوش کی دوا لو، شریفہ بی!

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 دسمبر 2012 ,‭ 15:30 GMT 20:30 PST
شریفہ بی بی

دو ہزار دو کے گجرات فسادات کی شکار شریفہ بی بی

پیاری شريفہ بی!

تم اتنی ضدی کیوں ہو؟

جو کچھ ہوا اسے بھول جاؤ نا!

دس سال گزر گئے ہیں۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے۔ آٹھ سال کے بچے اب اٹھارہ سال کے جوان ہو چلے ہیں۔

دیکھو! تمہارے شہر کی سڑکیں کتنی وسیع ہو گئی ہیں، کتنی ہی اونچی اونچی كالونياں بن گئی ہیں۔ نہ جانے کتنی چمچماتی کاریں آ گئی ہیں، اور شاپنگ مال؟ ان کا تو کہنا ہی کیا۔

اب تو مسلسل تیسری بار تمہارے رہنما تمہیں ترقی کی راہ پر لے جانے کو تیار ہیں۔

لیکن تم ہو کہ اب بھی ہر آنے جانے والے کو وہی پرانی کہانی سنانے لگتی ہو۔

جیسے تم نے مجھے سنائی تھی اپنی رام کہانی کہ کس طرح اس صبح تم چائے پی کے بیٹھی ہی تھیں کہ اچانک تم نے دیکھا کہ ایک کے بعد ایک لوگوں کی ٹکڑیاں، ہتھیاروں سے لیس لوگوں کی بھیڑ آ رہی تھی۔

کس طرح تم اور تمہارے آدمی پولیس والوں کے پاس مدد مانگنے پہنچے اور پھر پولیس والوں نے تمہیں یہ کہہ کر بھگا دیا کہ آج تمہارے مرنے کا دن ہے، واپس گھر جاؤ۔

اب اتنے بڑے مجمع کے سامنے پولیس والے کیا کہتے بھلا؟ بور ہوگیا میں تمہاری داستان سن کر۔

اور اب تم یہ سب یاد کرکے کروگی بھی کیا کہ جب تم اور تمہارے بچے جان بچانے کو ادھر ادھر بھاگ رہے تھے تو تمہارا سب سے بڑا بیٹا پیچھے چھوٹ گیا تھا؟

یہ یاد کر کے بھی کیا کرو گی کہ اس کو بھیڑ نے پائپ، لاٹھيوں اور تلواروں سے مار ڈالا۔

اور یہ یاد کر کے بھی کیا کروگی کہ جب اس کا قتل کیا جا رہا تھا تو تم ایک جالی کے پیچھے سے چھپ كر دیکھ رہی تھی اور تمہاری آنکھوں کے سامنے ہی بھیڑ نے اس پر مٹی کا تیل ڈال کر اسے جلا ڈالا تھا؟

دیکھو سب آگے بڑھ گئے ہیں، زمانہ آگے بڑھ چکا ہے۔ تم کب تک ان یادوں میں الجھی رہوگی؟ تم لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ تم بھول نہیں سکتے۔

غصہ سب کو آیا تھا اس وقت۔ آیا تھا کہ نہیں؟ سب پڑھے لکھے انگریزی بولنے والے لوگوں نے رندھے گلے سے کہا تھا: ’دِس اِز ان ایكسیپٹیبل‘ (یہ ناقابلِ قبول ہے)

پھر ایكسپٹ (قبول) کر لیا نا؟

امیتابھ بچن نے کیا۔ امبانی نے کیا۔ رتن ٹاٹا نے کیا۔

شريفہ بی بی تم بڑی ہو کہ رتن ٹاٹا؟ تم بڑی ہو کہ امبانی، یا پھر تم بڑی کہ امیتابھ بچن؟ رہو اپنی ضد پر اڑي۔ ارے کہاں اتنے نامور لوگ اور کہاں تم؟ کچھ سوچو!

اب دیکھو نا! احمد آباد میں اپنے ہوٹل کے کمرے میں بیٹھ کر جس وقت میں تمہیں یہ خط لکھ رہا ہوں، ٹی وی کی سکرین سے پورے ملک کا غصہ پھوٹا پڑتا ہے۔

دلی کی ایک بس میں چار لوگوں نے نرسنگ کی تعلیم حاصل کرنے والی ایک تئیس سالہ لڑکی کے ساتھ چار لڑکوں نےاجتماعی زیادتی کی، لوہے کے سریوں سے اس کے پیٹ پر اتنے وار کیے کہ اس کی آنتیں کچلی گئیں۔ حملہ آور اس لڑکی اور اس کے دوست کے کپڑے اتار کر دونوں کو چلتی بس سے پھینک کر چلتے بنے۔

ابھی پھر سے تمام رہبران اور اداکار رو رہے ہیں۔ کہہ رہے ہیں کہ ’دس از ان ایكسپٹیبل۔‘

آج جسے ’ناقابل قبول‘ کہا جاتا ہے، پڑھے لکھے لوگ کل اسے ’قابل قبول‘ مان لیتے ہیں یا پھر اس کا ذکر ہی نہیں کرتے۔

تمہاری کیا سدھ ماری گئی ہے، شريفہ بی بی؟ تم بھی دھیرے سے کہنا سیکھ لو: ’یہ ناقابل قبول ہے‘ اور پھر بھول جاؤ۔

ہوش کی دوا لو، شريفہ بی بی، ہوش کی دوا!

(نوٹ: شريفہ بی بی کوئی خیالی کردار نہیں ہے۔ (وہ احمد آباد کی نرودا پاٹيا بستی میں رہتی ہیں)۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔