جنسی زیادتی اور بے حس معاشرہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 دسمبر 2012 ,‭ 15:43 GMT 20:43 PST
دلی میں جنسی زیادتی کے خلاف مظاہرہ

بھارت کے دارالحکومت دلّی میں ایوانِ صدر کے نزدیک ہزاروں لوگ جمع ہیں۔ وہ گزشتہ اتوار کو پیش آنے والے جنسی زیادتی کے ایک بھیانک واقعے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

مظاہرے سے چوبیس گھنٹے پہلے دارالحکومت میں ہی چار بچوں کی ایک ماں کے ساتھ جنسی زیادتی کا ایک اور واقعہ رونما ہوا۔ آج اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ دلّی کی حکومت نے بچوں کے ایک سکول کا لائسنس منسوح کر دیا ہے کیونکہ کچھ دنوں پہلے سکول کے کسی اہلکار نے کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔

بھارت کے لیے یہ حیرت انگیز واقعات نہیں۔ دراصل دلّی اور اس کے اطراف میں ہر روز اوسطاً دو خواتین یا بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ یوں تو پورے بھارت میں جنسی زیادتی کے ہزاروں واقعات درج کیے جاتے ہیں لیکن ان واقعات کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے جن کے بارے میں متاثرین معاشرے کے ناموافق رویے کے سبب کبھی نہیں بتاتے۔

ابھی کچھ برس پہلے تک بھارت کی ہندی فلموں میں بھی جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کا انجام اکثر خودکشی کی شکل میں دکھایا جاتا تھا جیسے کہ وہ خود اپنے اوپر کیے گئےظلم کی مجرم ہو۔ بھارتی معاشرے کی یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف تو عورت کی شکل میں دیویوں کی پوجا کی جاتی ہے اور دوسری جانب اسے ہر قسم کے تشدد اور تفریق کا سامنا ہے۔

ریپ یا جنسی زیادتی کا سوال بھارت میں ایک عرصے سے عوام کے شعور میں کسی آتش فشاں کے لاوے کی طرح پک رہا تھا۔ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسے جنسی زیادتی کے مجرموں کو قانون کا کوئی خوف ہی نہ ہو۔ معاشرے کا رویہ بھی فرسودہ اور اکثر قابل مذمت رہا ہے ۔ جنسی زیادتی کے کسی واقعے کے بعد اگر کوئی بحث چھڑتی تو کبھی اس طرح کے مشورے آتے کہ لڑکیوں کو جینز نہیں پہننی چاہیے تو کبھی کوئی رہمنا یہ بتاتا کہ لڑکیوں کو رات میں گھر سے نہیں نکلنا چاہیئے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ شہر کے سارے پبز (شراب خانے) بند کر دیے جائیں۔ ان سبھی دلیلوں کا اگر تجزیہ کریں تو ان سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ جیسے جنسی زیادتی کے لیے خود لڑکیاں ہی ذمے دار ہیں۔

دلی مظاہرہ

دلی میں جنسی زیادتی کے خلاف مظاہرہ، ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر

ہر برس جنسی زیادتی کے ہزاروں واقعات کے باوجود بھارتی معاشرے میں انسانیت کے خلاف اس بھیانک جرم کی جڑ تک جانے اور ان پر قابو پانے کے طریقوں پر کبھی کوئی منظم اور موثر بحث نہ ہوسکی۔ ملک کے پالیسی سازوں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس مجرمانہ ذہنیت کو شکست دینے کی کوشش نہیں کی جس نے آج پورے بھارتی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

جسنی زیادتی کے واقعات بھارتی معاشرے کا غیر پسندیدہ حصہ بن چکے ہیں۔ مجرموں کو سزا دینے کے لیے سو برس پرانے جو قوانین نافذ ہیں وہ اتنے پیچیدہ، اتنے مبہم اور اتنے تکلیف دہ ہیں کہ کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے قانون کی مدد نہیں لینا چاہے گا۔ اسی لیے خواہ وہ قتل کا معاملہ ہو یا جنسی زیادتی کا، بیشتر مجرم سزاؤں سے بچ جاتے ہیں۔ عام لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ قانون بااثر طاقتور اور مجرموں کے فائدے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات صرف قانون میں خامی کے ہی نہیں بھارتی معاشرے کی بے حسی کے بھی عکاس ہیں۔

لیکن گزشتہ اتوار کو ایک نوجوان طالبہ کے ساتھ جو واقعہ ہوا ہے اس نے لوگوں کے شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک مؤثر قانون اور قانون کی حکمرانی کے لیے پورے ملک میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ لوگ اب ان واقعات کے لیے حکومت اور پولیس سے جواب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر یہ جرائم نہیں تھم رہے ہیں تو اس کے لیے کون ذمے دار ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔