دہلی ریپ کیس کے سلسلے میں گرفتاریاں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 دسمبر 2012 ,‭ 08:46 GMT 13:46 PST

سترہ دسمبر کو ایک تئیس سالہ طالبہ کو دلی کی ایک نجی بس میں مبینہ طور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بھارت کے دارالحکومت دلّی میں پولیس حکام کا کہنا کہ دہلی میں ایک لڑکی کو گینگ ریپ کرنے کے سلسلے میں ایک پانچویں شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس دوران دلّی کے رائے سنا ہلز کے علاقے راج پتھ پر اجتماعی ریپ کے خلاف مظاہرہ جاری ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، واٹر کینن کا استعمال کیا جبکہ لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔

ان مظاہروں میں اسکول اور کالج کے طلبہ کے علاوہ مختلف تنظیموں کے اراکین اور گھر میں رہنے والی خواتین بھی شریک ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے یہ ایک سنگین نوعیت کا جرم ہے اس لیے وہ عدالت سے ملزمین کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کریگي۔ اس کیس میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بتانے کے لیے بھارت کے داخلہ سیکرٹری اور دہلی کے پولیس کمشنر نے جمعے کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا شہر میں کسی بھی طرح کی غنڈہ گردی سے نمٹنے کے لیے پولیس کو سخت ہدایات دی گئی ہیں جس پر سختی سے عمل کیا جائیگا۔

دلی کے پولیس کمشنر نیرج سنہا نے کہا کہ گزشتہ چند روز میں کارروائي کے تحت کئي سو غیر قانونی طور پر چلنے والی بسوں اور گاڑیوں کو ضبط کیا گيا ہے۔
اس سے قبل صفدر جنگ ہسپتال کے ڈاکٹر بیڈي اتھانی نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کی حالت ابھی نازک ہے لیکن پہلے سے بہتر ہے اور جمعہ کو دوپہر بعد انہیں وینٹی لیٹر سے ہٹا لیا گيا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی صحت کے لیے آئندہ دس روز بڑے اہم ہیں کیونکہ انہیں انفیکشن کی شدید شکایت ہے۔

واضح رہے کہ دارلحکومت دلّی میں سترہ دسمبر کو ایک تئیس سالہ طالبہ کو ایک نجی بس میں مبینہ طور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

پولیس پہلے ہی بس کے ڈرائیور سمیت چار افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔

اس واقعے کے بعد سے بھارت میں شدید رد عمل دکھایا جا رہا ہے اور مختلف جانب سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

ڈاکٹروں نے بدھ کو دوسری بار لڑکی کا آپریشن کیا تھا اور انفیکشن سے متاثرہ ان کی پوری آنت کو باہر نکال دیا گیا تھا لیکن ابھی بھی ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق طالبہ اپنے مرد دوست کے ہمراہ بس میں سفر کر رہی تھی جب بس میں چھ سے ساتھ افراد نے ان پر حملہ کیا اور دونوں کو بری طرح مار پیٹ کر بس سے باہر پھینک دیا گیا۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ جب اتوار کو جنسی زيادتی کے بعد لڑکی کو ہسپتال میں لایا گیا تو ان کی پانچ فیصد آنتیں ہی سلامت تھیں۔

پانچویں گرفتار کیے جانے والے فرد کے بارے میں دہلی پولیس کے سربراہ نیرج کمار نے پریسٹ ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ ’ہم گرفتار کیے جانے والے شخص کی عمر کا تعین کر رہے ہیں اور اگر وہ قانونی عمر سے کم عمر ہوئے تو قانون کے مطابق ان کی تفصیلات نہیں بتائی جائیں گیں۔

اس سے پہلے گرفتار کیے جانے والے افراد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے ایک سبزی فروش اور دوسرے جِم انسرکٹر ہیں۔

دہلی شہر میں ہر سال جنسی تشدد کے سینکڑوں واقعات ریکارڈ کیے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اس شہر کو بھارت میں جنسی زیادتی کا مرکز بھی کہا جاتا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق دہلی میں عوامی مقامات پر جنسی طور پر ہراساں کرنے، زیادتی اور اغوا کے واقعات کی شرح بڑھنے کے باعث خواتین کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بھارت کے قومی کمیشن برائے خواتین کی سربراہ کا کہنا ہے کہ دہلی میں ایسے واقعات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس اور حکومت کو خبردار رہنا چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔