روس سے تین ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ

آخری وقت اشاعت:  پير 24 دسمبر 2012 ,‭ 12:56 GMT 17:56 PST

دونوں رہنما ایک بڑے دفاعی معاہدے پر پر دستخط کریں گے

روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور بھارت کے وزيراعظم منموہن سنگھ نے تین ارب ڈالر کے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

روسی صدر پیر کی صبح بھارت کے ایک روزہ دورے پر دلی پہنچے اور بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد اس معاہدے کو آخری شکل دی گئی۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق روس نے اس معاہدے کے تحت بھارت کو بیالیس سخوئی 30 ایم کے آئی جنگي جہاز اور اکہتر ایم آئی 17 وی 5 ہیلی کاپٹر دینے کا وعدہ کیا ہے۔

ہتھیاروں سے متعلق اس معاہدے پر دستخط بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ اور روسی صدر پوتین کے درمیان بات چيت کے بعد ہوئے۔

اس معاہدے کے تحت ہیلی کاپٹر بنانے والی روسی کمپنی انہیں بھارت میں بھارتی کمپنی کے ساتھ ملک تیار کریگی۔

جنگي جہاز کا ساز و سامان ’ہندوستان ایروناٹیکل لمیٹیڈ‘ نامی بھارتی کمپنی کو سونپا جائیگا جسے کمپنی روس کی مدد سے تیار کریگي۔

ایک زمانے سے روس ہی بھارت کو کلیدی فوجی ساز و سامان مہیا کرتا رہا ہے لیکن حالیہ برسوں میں بھارت نے امریکہ اور بعض یورپی ممالک سے بھی دفاعی معاہدے کیے ہیں۔

اپنے دورے سے قبل روسی صدر نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دو ہزار پندرہ تک دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بیس ارب ڈالر تک بڑھ جائے۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات دلی میں انڈیا گيٹ کے پاس حیدر آباد بھون میں ہونی تھی لیکن چند روز قبل ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی جنسی زيادتی کے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد سکیورٹی وجوہات کے سبب صدر پوتن وزیراعظم سے ان کی رہائش گاہ پر ملے۔

دفاعی تجزيہ کاروں کے مطابق بھارت اپنے ہتھیاروں کا تقریبا ستّر فیصد حصہ روس سے خریدتا ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ روس ہتھیار بیچنے کے ساتھ ساتھ بھارت کو بعض اہم ٹیکنالوجیاں بھی فراہم کرتا ہے۔

لیکن حالیہ برسوں میں اس نے فرانس، امریکہ اور اسرائیل سے بھی کئی اہم اور بڑے دفاعی معاہدے کیے ہیں۔

روس کو اب اس بات پر تشویش ہے کہ بھارت کے ساتھ اس کے روایتی ہتھیار بیچنے کے جو مراسم رہے ہیں کہیں اس پر دوسرے ممالک غالب تو نہیں آ جائیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔