حکمران عوام سے بات کرنے سے کیوں کتراتے ہیں

آخری وقت اشاعت:  پير 24 دسمبر 2012 ,‭ 14:04 GMT 19:04 PST
بھارتی مظاہرین

بھارت کے ایک سیاستدان نے بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ مظاہرین اتنے غصے میں کیوں ہیں؟

گزشتہ ہفتے بھارت کے دارالحکومت دلی میں ایک طالبہ کو بس میں اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے خلاف ہنگامے شروع ہوگئے جو ابھی تک جاری ہیں۔

یہ ہنگامے صرف دلی تک محدود نہیں ہیں بلکہ ملک گیر ہو چکے ہیں۔

ہنگامے شروع ہونے کے ایک ہفتے بعد بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پہلی دفعہ ٹی وی پر ظاہر ہو کر لوگوں کو صبر کی تلقین کی ہے۔

حکمران جماعت کی سربراہ اور ملک کی سب سے طاقتور خاتون سونیا گاندھی نے ہنگاموں کے شروع ہونے کے کئی روز بعد مظاہرین کے ایک گروہ سےملاقات کرنا پسند کیا۔

بھارت میں لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ہمارے حکمران کس دنیا میں رہتے ہیں اور وہ عوام سے ملنے اور ان کی بات کو سننے میں دیر کیوں کر دیتے ہیں۔

کئی لوگوں کا خیال ہےکہ اگر بھارتی وزیر اعظم یا ان کا کوئی جونیئر وزیر ہی مظاہرین کے پاس چلا گیا ہوتا اور انہیں یقین دلاتا کہ اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی اور انصاف کے ناکارہ نظام میں اصلاحات کی یقین دہانی کرواتا تو مظاہرین اب تک گھروں کو جا چکے ہوتے۔

"حکمرانوں کی بےحسی کی داستان یہیں ختم نہیں ہوتی۔دلی کے پولیس کمشنر نے یہ کہہ کر جلتی پر تیل چھڑکا کہ دلی میں مرد بھی محفوظ نہیں ہیں کیونکہ ان کی ’جیبں بھی کٹتی ہیں‘۔ گینگ ریپ کے ملزموں کو جیب کتروں سے ملانے کی کوشش نے لوگوں کو مزید مشتعل کیا۔"

وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ وزیروں سے یہ امید نہ رکھی جائے کہ وہ ایرے غیرے سیاسی کارکنوں اور کیمونسٹوں سے ملیں گے۔

دلی میں مظاہرین ایسے نعرے بلند کر رہے تھے کہ یہ ہمارے نمائندے نہیں بلکہ ہمارے حکمران ہیں۔ بعض لوگ بھارتی حکمران طبقے کے اس رویے کو’فیوڈل جہموریت‘ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ لوگوں کا حکمران طبقے کے خلاف یہ رویہ اس موروثی سیاست کا نتیجہ ہے جس میں حکمران طبقہ لوگوں کو اپنی بات سناتا تو ہے لیکن ان کی سنتا نہیں۔

بھارت کا حکمران طبقہ اور افسر شاہی اپنے بدلتے ہوئے شہریوں سے بات کرنے کے اہل ہی نہیں ہے۔ بھارتی حکمرانوں کی اس کمزوری کو ایک مصنف گرچرن داس نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے’جوان بھارت، ضعیف سیاستدان‘۔

سیاستدانوں اور عوام کے درمیان یہ خلیج بھارتی جمہوریت کے لیے اچھی خبر نہیں ہے۔

پرتاب بھانو جیسے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایسے حالات میں جمہوریت کی قانونی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔

کچھ مبصرین کے خیال میں بھارت کی معاشرتی گراؤٹ کی ایک وجہ عوامی سیاستدانوں کی کمی ہے جو لوگوں کے ساتھ بات کر سکتے ہوں۔

بھارت کے گم گو وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کبھی الیکشن نہیں جیتا، حکمران کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی اور ان کے جانشین راہل گاندھی شاذ و نادر ہی لوگوں سے بات کرتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب بھارت کے پاس جواہر لال نہرو اور جے پرکاش نارائن جیسے سیاستدان تھے جو لوگوں کی رہنمائی کر سکتے تھے۔

انیس سو سینتالیس میں انڈیا کی تقسیم کے موقع پر دلی کے ایک علاقے میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔

جواہر لعل نہرو وہاں سےگذر رہے تھے کہ انہیں اس کا پتہ چلا۔ وہ فوراً اپنی گاڑی سے اترے اور سکیورٹی حصار کو توڑتے ہوئے لوگوں کے پاس پہنچ گئے اور فسادات بند کروائے۔ اسی طرح مہاتما گاندھی کئی بار مذہبی فسادات کو ختم کرانے میں کامیاب رہے۔

گزشتہ ہفتے بھارت کے ایک سیاستدان نے بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ مظاہرین اتنے غصے میں کیوں ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔