دہلی گینگ ریپ: ’خاتون کی حالت نازک ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 دسمبر 2012 ,‭ 09:54 GMT 14:54 PST

اس واقعے کے بعد دہلی میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ پھوٹ پڑا تھا

سنگاپور کے ماؤنٹ الزیبتھ ہسپتال کا کہنا ہے کہ دلی میں اجتماعی عصمت دری کی شکار ہوئی لڑکی کو جمعرات کی صبح انتہائی نازک حالت میں داخل کیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ہسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے ’لڑکی کا علاج کیا جا رہا ہے۔ ہسپتال بھارتی ہائی کمیشن کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ہم لڑکی اور اس کے خاندان والوں کی رازداری کا احترام کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔‘

وہیں بھارت کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ دہلی میں بس کے اندر جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کو مزید علاج کے لیے سنگاپور منتقل کر دیا گیا تھا۔

بھارتی حکام نے کہا تھا کہ تئیس سالہ خاتون کا ممکنہ طور پر اعضا کی تبدیلی کا آپریشن کیا جائے گا۔ وہ اب بھی لائف سپورٹ سسٹم پر ہیں۔

وہیں دلی میں قومی ترقیاتی کونسل کی میٹنگ میں وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ خواتین کے تحفظ کا مسئلہ بہت اہم ہے اور اس کے لئے ایک کمیشن کا قیام کیا گیا ہے۔

’جب تک خواتین کی حفاظت کو یقینی نہیں ہوتی تب تک سماج میں خواتین کے مثبت حصہ داری نہیں ہو سکتی ہے۔‘

یاد رہے کہ زیادتی کا شکار بننے والی خاتون کے دہلی میں تین آپریشن ہو چکے ہیں۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے سینیئر ڈاکٹر بی ڈی اتھانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کا سنگاپور کے ماؤنٹ الزبتھ ہسپتال میں مزید علاج کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ زخمی خاتون کی آنتوں کے شدید زخموں کے علاج کے لیے اس ہسپتال میں منتقلیِ اعضا کی جدید ترین سہولیات موجود ہیں۔

ڈاکٹر اتھانی نے کہا کہ خاتون کے خاندان کے افراد بھی ان کے ساتھ سنگاپور گئے ہیں، کیوں کہ علاج پر خاصا وقت لگ سکتا ہے۔

اس واقعے کے خلاف مظاہروں کا زور ٹوٹنے کے بعد دہلی پولیس نے پیر کے روز سے بند سڑکیں اور میٹرو سٹیشن کھول دیے ہیں۔

حکومت نے لوگوں کی برہمی دور کرنے کے لیے دہلی میں خواتین کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں رات کے وقت پولیس کے گشت میں اضافہ، بس ڈرائیوروں اور ان کے ماتحتوں کی نگرانی، اور سیاہ شیشوں اور پردوں والی بسوں پر پابندی لگانا شامل ہیں۔

تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے ملزموں کو عمر قید کی سزائیں دلوانے کا عزم کافی نہیں ہے۔ بہت سے لوگ ان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دلی میں ریپ کا یہ واقعہ 16 دسمبر اتوار کی رات ساڑھے نو بجے کے آس پاس اس وقت پیش آیا تھا جب مذکورہ خاتون اور اس کا دوست ایک چارٹرڈ بس میں سوار ہوئے تھے۔

اسی بس میں سوار کچھ افراد نے خاتون سے چھیڑ چھاڑ کی، پھر دونوں کو مارا پیٹا گیا اور خاتون سے جنسی زیادتی کی گئی۔ اس کے بعد دونوں کو چلتی بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔