چائے باغات کے مالک اور بیوی کو زندہ جلایا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 دسمبر 2012 ,‭ 09:44 GMT 14:44 PST
چائے باغات

آسام کے چائے باغات میں کام کرنے والے مزدوروں اور مالکان میں کشدیگي رہی ہے

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کی رات کو ہوئے تشدد کے ایک واقعے میں چائے باغات کے ایک مالک اور ان کی بیوی اس وقت ہلاک ہوگئے جب ناراض مزدوروں نے ان کے بنگلے میں آگ لگا دی۔

ریاست کے تنسكھيا ضلع میں واقع كناپتّھر چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدور اس بات سے ناراض تھے کہ کچھ دن پہلے باغ میں رہنے والے چند مزدوروں کو گھر خالی کرنے کے لیے انہیں نوٹس بھیجے گئے تھے۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کے چائے کے کئي باغات میں گزشتہ چند برسوں میں کئي ایک پر تشدد وارداتیں درج کی گئی ہیں۔

تنسكھيا ضلع کے مجسٹریٹ میناکشی ایس ایس سندرم کے مطابق ’تقریبا سات سو لوگوں کے ہجوم نے بدھ کی شام چائے باغات کے مالک کے بنگلے کو گھیر لیا اور پھر اس میں آگ لگا دی‘۔

’مردل کمار بھٹّاچاریہ اور ان کی اہلیہ ریتا کی جلی ہوئی لاشوں کو اس واقعے کے بعد جلے ہوئے بنگلے سے پولیس نے برآمد کیا ہے۔‘

حکام کے مطابق اس باغ کے مالک کی دو کاریں اور کچھ املاک بھی آگ زنی کے اس واقعے میں تباہ ہو گئی اور ایسا لگتا ہے جیسے حملہ آور تیر اور کمان سے لیس تھے۔

"تقریبا سات سو لوگوں کے ہجوم نے بدھ کی شام چائے باغات کے مالک کے بنگلے کو گھیر لیا اور پھر اس میں آگ لگا دی۔ مردل کمار بھٹّاچاریہ اور ان کی اہلیہ ریتا کی جلی ہوئی لاشوں کو اس واقعے کے بعد جلے ہوئے بنگلے سے پولیس نے برآمد کیا ہے۔"

تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت اس بنگلے میں کئی اور اہلکار موجود تھے لیکن وہ سب اس آگ سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔

ادھر كناپتّھر چائے باغات میں کام کرنے والے منیجر کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ خبروں کے مطابق اس باغ میں گزشتہ کچھ ہفتوں سے مزدوروں اور انتظامیہ کے درمیان رسہ کشی چل رہی تھی۔

واقعے کے بعد بوردمسا پولیس سٹیشن میں درج کی گئی ایف آئی آر کی رپورٹ کی بنیاد پر تین مزدوروں سے پوچھ گچھ کی گئی ہے تاہم پولیس کے مطابق ابھی تک کسی کو بھی حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔

تقریبا دو سال پہلے مردل کمار بھٹاچاریہ کے ایک اور باغ میں مزدوروں اور انتظامیہ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں تھیں۔

اس وقت مشتعل مزدوروں نے دارالحکومت گوہاٹی کے قریب واقع ان باغ میں اس وقت آگ لگا دی تھی جب مالک نے بعض مزدوروں پر مبینہ طور سے گولی چلائی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔