دلی ریپ:’لڑکی کو گہری دماغی چوٹ پہنچی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 06:15 GMT 11:15 PST

مریضہ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے: ماؤنٹ الزبتھ ہسپتال

بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں بارہ دن قبل اجتماعی جنسی زیادتی کی شکار ہونے والی لڑکی کی حالت بدستور نازک ہے اور انہیں لائف سپورٹ سسٹم پر رکھا جا رہا ہے۔

سنگاپور کے ماؤنٹ الزبتھ ہسپتال کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق تئیس سالہ مریضہ کو گہری دماغی چوٹ آئی ہے اور وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔

زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کو جمعرات کی صبح بھارت سے سنگاپور منتقل کیا گیا تھا۔

اس سے قبل بھارت میں ان کے تین آپریشن کیے گئے تھے اور اب کہا جا رہا ہے کہ متاثرہ لڑکی کو اعضاء کی پیوندکاری کی ضرروت پڑ سکتی ہے۔

گینگ ریپ کا یہ واقعہ سولہ دسمبر کی رات اس وقت پیش آیا تھا جب مذکورہ لڑکی اور اس کا دوست ایک چارٹرڈ بس میں سوار ہوئے تھے۔

اسی بس میں سوار کچھ افراد نے لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کی، پھر دونوں کو مارا پیٹا گیا اور خاتون سے جنسی زیادتی کی گئی۔ اس کے بعد دونوں کو چلتی بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔

اس واقعے کے خلاف دارالحکومت نئی دلی سمیت بھارت کے متعدد شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں اور وزیراعظم سمیت حکومتی عہدیداروں نے ملک میں خواتین کے تحفظ کے لیے بہتر اقدامات کی یقین دہانی کروائی ہے۔

پولیس نے اس گینگ ریپ کے مقدمے میں اب تک چھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

اس واقعے کے بعد دہلی میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ پھوٹ پڑا تھا

سنگاپور کے ماؤنٹ الزبتھ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو افسر کیلون لوہ نے کہا ہے کہ ’مریضہ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے۔ تشخیص سے پتہ چلا ہے کہ اسے دل کا دورہ پڑنے کے علاوہ مریض کے پھیپھڑوں اور جسم میں انفیکشن ہے اور انہیں گہری دماغی چوٹ پہنچی ہے۔‘

ادھر دلی میں قومی ترقیاتی کونسل کی میٹنگ میں وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ خواتین کے تحفظ کا مسئلہ بہت اہم ہے اور اس کے لئے ایک کمیشن کا قیام کیا گیا ہے۔

’جب تک خواتین کی حفاظت کو یقینی نہیں ہوتی تب تک سماج میں خواتین کے مثبت حصہ داری نہیں ہو سکتی ہے۔‘

دلی میں اس واقعے کے خلاف مظاہروں کا زور ٹوٹنے کے بعد پولیس نے پیر کے روز سے بند سڑکیں اور میٹرو سٹیشن کھول دیے ہیں۔

حکومت نے لوگوں کی برہمی دور کرنے کے لیے دہلی میں خواتین کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں رات کے وقت پولیس کے گشت میں اضافہ، بس ڈرائیوروں اور ان کے ماتحتوں کی نگرانی، اور سیاہ شیشوں اور پردوں والی بسوں پر پابندی لگانا شامل ہیں۔

تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے ملزموں کو عمر قید کی سزائیں دلوانے کا عزم کافی نہیں ہے۔ بہت سے لوگ ان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔