دہلی ریپ کی شکار خاتون دم توڑ گئیں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 دسمبر 2012 ,‭ 22:17 GMT 03:17 PST

جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کو علاج کے لیے دہلی سے سنگاپور بھیجا گیا تھا

ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ نئی دہلی میں اجتماعی جنسی زیادتی کا شکار بننے والی خاتون سنگاپور کے ایک ہسپتال میں دم توڑ گئی ہیں۔

وہ سنگاپور کے جس ہسپتال میں زیرِ علاج تھیں اس کے ایک عہدے دار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ہفتے کی صبح انتقال کر گئیں۔

ماؤنٹ الزبتھ ہسپتال کے چیف ایگزیکیٹیو کیون لوہ نے مزید کہا کہ ’ہم بڑے دکھ سے اطلاع دے رہے ہیں کہ وہ 29 دسمبر کی رات پونے پانچ بجے انتقال کر گئیں۔ ان کی موت پرسکون تھی۔ ان کے خاندان کے افراد اور بھارتی ہائی کمیشن کے افراد ان کے ساتھ موجود تھے۔‘

جمعرات کو سنگاپور پہنچنے سے پہلے 23 سالہ خاتون کے دہلی میں تین آپریشن ہوئے تھے۔

خاتون کے بدن اور سر پر آنے والی شدید چوٹوں کے باعث ان کے اعضا نے کام چھوڑ دیا تھا۔

بیان میں مزید بتایا گیا، ’انھوں نے اتنی دیر تک بہت بہادری سے اپنی زندگی کی جنگ لڑی، لیکن ان کے جسم کو پہنچنے والے زخم بہت شدید تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’دو روز قبل ماؤنٹ الزبتھ ہسپتال پہنچنے کے بعد آٹھ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا علاج کیا لیکن ان کی حالت بگڑتی چلی گئی۔‘

سنگاپور میں بی بی سی کے نامہ نگار پنیت سنگھ نے بتایا کہ ہسپتال کے جس وارڈ میں خاتون کو رکھا گیا تھا، وہاں سخت سکیورٹی ہے اور میڈیا کو وہاں جانے یا ان کے خاندان کے افراد سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔

ہمارے نمائندے کے مطابق یہ ہسپتال جدید ترین سہولیات سے مزین ہے اور یہاں وی آئی پیز کا علاج ہوتا ہے، اس لیے عام حالات میں بھی کڑی سکیورٹی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تاہم اس واقعے کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

"ہسپتال کے جس وارڈ میں خاتون کو رکھا گیا تھا، وہاں سخت سکیورٹی ہے اور میڈیا کو وہاں جانے یا ان کے خاندان کے افراد سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔"

سنگاپور میں بی بی سی کے نامہ نگار پنیت سنگھ

دلی میں ریپ کا یہ واقعہ 16 دسمبر کی رات پیش آیا تھا جب ایک بس میں سوار کچھ افراد نے خاتون سے جنسی زیادتی کی اور پھر انھیں ان کے ساتھی سمیت چلتی بس سے باہر پھینک دیا۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے چھ افراد کو گرفتار اور دو پولیس اہل کاروں کو معطل کر دیا ہے۔

جمعے کے روز ڈاکٹروں نے خاتون کے بارے میں کہا تھا کہ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

ہسپتال کے عہدے دار نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ خاتون کو ’مصنوعی تنفس دیا جا رہا ہے، اور انھیں جراثیم کش ادویات اور انفیکشن کا مقابلہ کرنے کے لیے دوسری ادویات دی گئی ہیں۔‘

سنگاپور کے ہسپتال میں پہنچنے کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ دل کے دورے کے علاوہ ان کے پھیپھڑوں اور پیٹ میں انفیکشن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے دماغ پر بھی خاصی چوٹ آئی ہے۔

حکومت نے لوگوں کی برہمی دور کرنے کے لیے دہلی میں خواتین کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں رات کے وقت پولیس کے گشت میں اضافہ، بس ڈرائیوروں اور ان کے ماتحتوں کی نگرانی، اور سیاہ شیشوں اور پردوں والی بسوں پر پابندی لگانا شامل ہیں۔

تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے ملزموں کو عمر قید کی سزائیں دلوانے کا عزم کافی نہیں ہے۔ بہت سے لوگ ان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔