دلّی ریپ:طالبہ کی آخری رسومات، احتجاج جاری

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 دسمبر 2012 ,‭ 15:38 GMT 20:38 PST

بھارت کے دارالحکومت نئی دلّی میں ایک بس میں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی تیئس سالہ طالبہ کی آخری رسومات اتوار کی صبح ادا کر دی گئی ہیں۔

اس واقعے کے خلاف اتوار کو بھی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد غمگسار افراد نے نئی دلّی میں دعائیہ تقاریب منعقد کیں جن میں حکومت سے خواتین پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ دہرایا گیا۔

اتوار کو بھی دلّی کی سڑکوں پر پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات رہی اور مختلف مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

جزبِ اختلاف کی بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس معاملے پر پارلیمان کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے دلّی میں ہونے والے گینگ ریپ کے معاملے کو ’انتہائی ظالمانہ‘ قرار دیا ہے اور اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

انھوں نے بھارتی حکومت سے اپیل کیا ہے کہ وہ اس طرح کے جرائم کو روکنے کے لیے قدم اٹھائے اور اس معاملہ کے مرتکب مجرموں کو سخت سے سخت سزا دے۔

ترجمان کے ذریعے جاری کیے گئے بیان میں بان گی مون نے کہا کہ ’خواتین کے خلاف تشدد کے معاملات کو کبھی قبول نہیں کیا جانا چاہیے، اسے کسی بھی حالت میں معاف نہیں کیا جانا چاہیے، نہ ہی اسے برداشت کیا جانا چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ ہر لڑکی اور ہر عورت کا حق ہے کہ ان کا احترام ہو اور ان کی حفاظت کی جائے۔‘

"ایک عورت اور ماں ہونے کے ناطے وہ لوگوں کا درد سمجھتی ہیں. جن لوگوں نے اس واقعہ کے خلاف آواز اٹھائی ہے، میں انہیں یہ یقین دلانا چاہتی ہوں کہ ان کی آواز سنی گئی ہے اور ان کی جدوجہد ضائع نہیں جائے گی۔"

انڈین نیشنل کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی

تئیس سالہ لڑکی جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی سنگاپور کے ماؤنٹ الزبتھ ہسپتال میں سنیچر کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی تھی۔

اس سے قبل لڑکی کی لاش کو اتوار کی صبح سنگاپور سے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے دلّی لایا گیا۔ خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق جنوبی دلّی کے علاقے دواركا کے شمشان گھاٹ پر ان کی آخری رسومات ادا کی گئی۔

ایجنسیوں کے مطابق نعش لانے والے طیارے کے دلّی پہنچنے کے وقت وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی ہوائی اڈے پر موجود تھے۔

سولہ دسمبر کو چلتی بس میں ریپ کے نفرت انگیز واقعہ کے بعد لڑکی کو شدید چوٹیں آئی تھیں جس کے بعد سے دلّی کے صفدر جنگ ہسپتال میں ان کا علاج جاری تھا پھر بعد میں چھبیس دسمبر کو انہیں بہتر علاج کے لیے سنگاپور منتقل کر دیا گیا۔

گینگ ریپ کی نشانہ بننے والی لڑکی کی موت کی اطلاع کے بعد بھارت میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ اتوار کی صبح بھی نئی دلّی کے مرکزی اور اہم مقامات پر پولیس کی نفری تعینات تھی اور انڈیا گیٹ جانے والا سارا راستہ بند ہے جبکہ جنتر منتر پر لوگ موجود ہیں۔

دریں اثناء پولیس نے گینگ ریپ کے ملزمین کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی درج کیا ہے اور تین جنوری کو عدالت میں ان کے خلاف چارج شیٹ درج کی جائے گی۔

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے تیئس سالہ طالبہ کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ حکومت خواتین کی سکیورٹی بڑھانے کے لیے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

ریپ کے خلاف مظاہرہ

آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد غمگسار افراد نے نئی دلّی میں دعائیہ تقاریب منعقد کیں

انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ سیاسی جماعتیں اور دیگر افراد بھارت میں خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے حوالے سے حکومت کو اپنی تجاویز دیں۔

تیئس سالہ لڑکی کی ہلاکت کے بعد پورے ملک خصوصاً خواتین میں شدید غصہ پایا جاتا ہے اور دلّی میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس واقعے کے خلاف مظاہرے کے لیے تقریباً چار ہزار افراد جنتر منتر میں جمع ہوئے۔

مظاہرے میں شامل ایک شخص نے دلی میں خواتین کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے حکومت کی جانے والی کوششوں کو ناکافی قرار دیا۔

مظاہرے میں شریک افراد نے ایک بینر اٹھا رکھا تھا جس میں بھارت کے سیاست دانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ’ہمیں آپ کی تعزیت اور جھوٹے جذبات نہیں چاہیں، ہمیں فوری انصاف چاہیے۔‘

دلّی کی وزیر اعلی شیلا ڈکشٹ نے ہلاک ہونے والی لڑکی کی موت کو پورے ملک کے لیے شرمناک قرار دیتے ہوئے مظاہرین سے بات کرنے کی کوشش کی تاہم مظاہرین نے انہیں خاموش کروا دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔