سیاسی نظام کی ساکھ داؤ پر

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 دسمبر 2012 ,‭ 07:36 GMT 12:36 PST
دلیّ

دلی میں گینگ ریپ کا شکار لڑکی کے ساتھ اظہار یکجہتی نے حکومت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

دلّی میں ریپ اور اخیر میں موت کا شکار ہونے والی لڑکی کی آخری رسومات ادا کر دی گئی ہیں۔ تئیس سالہ طالبہ کی لاش جب سنگاپور سے صبح ساڑھے تین بجے دلی کے ہوائی اڈے پر ایک خصوصی طیارے کے ذریعے لائی گئی تو اس وقت وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی وہاں موجود تھیں ۔

دارالحکومت دلی اور پورا ملک اب بھی اس نوجوان لڑکی کے ریپ اور موت سے سکتے میں ہے۔ اخبارات میں آج بھی کئی شہروں میں ریپ کی کئی خبریں شائع ہوئی ہیں ۔

دلی کی طالبہ کے ساتھ پیش آنے والے ریپ کے اس بھیانک واقعہ نے بھارت کے سیاسی نظام کی نا اہلی اور بے بسی کو پوری طرح عیاں کر دیا ہے۔

حکومت اور ملک کے سیاسی رہنما زمینی حقیقتوں اور اپنی عوام سے اس طرح کٹے ہوئے نظر آئے جیسے وہ کسی سنسان جزیرے کے حکمراں ہوں۔ دلّی کی سڑکوں پر مظاہرے ہوتے رہے۔ ہزاروں لوگ اپنے غم و غصے کے اظہار کے لیے پارلیمنٹ اور ایوان صدر تک اپنے جذبات پہنچانا چاہتے تھے۔ مظاہرین کی باتیں سننے کے لیے کوئی سیاسی رہنما اور کوئی وزیر ان کے پاس نہیں گیا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس طرح حکومت عوام کے پاس نہیں جایا کرتیں۔

منموہن سنگھ

من موہن سنگھ طالبہ کی نعش کی آمد کے وقت ای‏ئرپورٹ پر موجود تھے۔

بھارت کا سیاسی نظام اگرچہ جمہوری اصولوں پر قائم ہے لیکن اسے چلانے والے وہی لوگ ہیں جو کچھ عشرے پہلے تک جاگیردار ہوا کرتے تھے۔ ساٹھ برس کی جمہوریت کے باوجود ان سیاسی رہنماؤں کی نفسیات سے جاگیرداری کا تصور جا نہیں سکا ہے۔

وہ خود کو منتظم اور سیاسی رہنما نہیں بلکہ حکمراں سمجھتے ہیں اور عوام ان کی نظروں میں اب بھی محض رعایا ہے جس کی قسمت کے وہ خود کو مالک سمجھتے رہے ہیں۔جمہوری بھارت میں سیاست طاقت، دولت اور تکبر کے حصول کا ذریعہ بنی ہوئی ہے ۔

پچھلے دو برس سے بھارت کے عوام کسی لیڈر اور قیادت کے بغیر ملک کے اس فرسودہ سیاسی نظام کو چیلنج کر رہے ہیں۔ خواہ وہ بدعنوانی کا معاملہ ہو یا ریپ کا آج ہزاروں کی تعداد میں میں پورے ملک میں لوگ ایک ساتھ نکلتے ہیں اور موجودہ سیاسی نظام سے اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔

سیاسی رہنما اس بدلتے ہوئے پس منظر میں پوری طرح بے بس اور لاچار نظر آ رہے ہیں۔ اس وقت صرف سیاسی رہنماؤں کی ہی نہیں پورے سیاسی نظام کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

ایک طرف بھارت کی نئی نسل ہے اور عوام ایک نئی سوچ اور نئی تمناؤں اور امنگوں کی نمائندگی کر رہے ہیں اور دوسری جانب عوام سے کٹے ہوئے، مغرور، درجنوں مسلح پولیس اہلکاروں کی حفاظت اور قلع جیسے مکانوں میں رہنے والے وہ سیاست داں ہے جو بھارت کے مستقبل کو کسی گھن کی طرح کھا رہے ہیں۔

انا ہزارے اور بابا رام دیو نہ تو دانشور ہیں اور نہ ہی کوئی سیاسی مبصر بلکہ وہ بھارت کے عام شہریوں کی طرح ہیں اور ان کی زبان وہی ہے جو ‏عام لوگوں کی ہے اور ان کے جزبات وہی ہیں جو کسی بھی عام آدمی کے ہوتے ہیں۔ اسی لیے وہ اس فرسودہ سیاسی نظام کے خلاف عوام کی نفرتوں کی علامت ہیں ۔

دلّی

دلی میں ریپ کا شکار لڑکی کے لیے لوگ دیر رات تک سردی میں جنتر منتر پر جمع تھے۔

پچھلے دو برس بھارت کے سیاست دانوں کے لیے بہت برے گزرے ہیں۔ ملک کے سیاست دانوں نے ایسی بے بسی پہلے کبھی نہیں محسوس کی ہوگی۔ ان کا سیاسی غرور اور طاقت کا حصار مسمار ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ وہ اپنے ہی لوگوں میں خود کو اجنبی محسوس کرنے لگے ہیں۔ سیاسی سطح پر ایک افرا تفری کا عالم ہے۔

ریپ تشدد کا سب سے بھیانک اور تکلیف دہ روپ ہے۔ بھارت میں اوسطاً ہر بیس منٹ میں کہیں نہ کہیں ایک ریپ ہو رہا ہوتا ہے۔ اس وقت ریپ کے ایک لاکھ سے زیادہ مقدمے برسوں سے عدالتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے اسی فی صد سے زیادہ معاملات میں مرتکبین کو ان کے جرائم کی سزا نہیں مل سکے گی۔

یہ پہلا موقعہ ہے جب ریپ کے کسی معاملے پر صدر مملکت کو بیان دینے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا جب ایک غریب لڑکی کی لاش کے سامنے بھارت کا وزیر اعظم ساڑھے تین بجے رات میں ہاتھ جوڑے کھڑا ہو۔

عوام اپنے رہمناؤں کو ذلیل وخوار نہیں دیکھنا چاہتے وہ صرف ایک جوابدہ تیز رفتار اور ذمےدار نظام کے متمنی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔