طالبان کشمیر کا رخ کر سکتے ہیں: میرواعظ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 2 جنوری 2013 ,‭ 13:45 GMT 18:45 PST
میرواعظ عمر فاروق

میر واعظ کے مطابق کشمیریوں کو حکومت ہند سے مایوسی ہوئی ہے

سات رُکنی وفد کے ہمراہ پاکستانی دورے سے واپس آنے والے کشمیری علیٰحدگی پسند رہنما میرواعظ عمرفاروق کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انہیں محسوس ہوا کہ اگر دو ہزار چودہ سے قبل بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے تنازعے پر مفاہمت نہ ہوئی تو بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مسلح شورش کی نئی اور خطرناک لہر چل پڑے گی۔

میرواعظ عمر فاروق علیحدگی پسنداتحاد حریت کانفرنس کے اُس دھڑے کے سربراہ ہیں جس کی اکائیاں حکومت ہند اور حکومت پاکستان کے ساتھ دوطرفہ طور پر بات چیت کی حامی ہیں۔

بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران میرواعظ نے کہا، ’ظاہر ہے امریکہ افغانستان میں امن کا کوئی فریم ورک طے کر کے ہی نکلےگا۔ لیکن افغانستان کے بعد اس خطے میں کشمیر واحد میدان جنگ بچتا ہے۔ یہاں اگر لوگوں میں غصہ قائم رہا اور فوج موجود رہی تو طالبان اور دوسری شدت پسند قوتیں یہاں آسکتی ہیں۔‘

میرواعظ کا کہنا ہے کہ مسلح شدت پسندی کا یہ دائرہ بھارت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ وہ بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور موجودہ وزیراعظم من موہن سنگھ کے ساتھ کئی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

بات چیت کی اس پالیسی کی وجہ سے انہیں حریت کانفرنس کے حریف دھڑے کے رہنما سید علی گیلانی کی تنقید کا بھی سامنا ہے۔ لیکن میرواعظ پاکستان سے لوٹنے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ حکومتِ ہند مسئلہ کشمیر پر ’دیکھو اور انتظار کرو‘ یعنی تنازعے کو مؤخر کے حالات کا مشاہدہ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

"ظاہر ہے امریکہ افغانستان میں امن کا کوئی فریم ورک طے کرکے ہی نکلےگا۔ لیکن افغانستان کے بعد اس خطے میں کشمیر واحد میدان جنگ بچتا ہے۔ یہاں اگر لوگوں میں غصہ قائم رہا اور فوج موجود رہی تو طالبان اور دوسری شدت پسند قوتیں یہاں آسکتی ہیں۔"

ان کا کہنا ہے، ’ان کے اپنے سیاست دان، یہاں کا چیف منسٹر فوجی اختیارات میں محض ترمیم کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ ایک چھوٹا قدم ہے۔ اس معاملہ پر بھی نئی دلّی ہٹ دھرم ہے۔ لیکن خطے میں حالات بدل رہے ہیں اور اگر اگلے ڈیڑھ سال تک کچھ نہیں ہوا تو کشمیر میں مسلح شورش کی ایسی لہر چلےگی جس میں ہم جیسے لوگوں کی بات بھی بے وزن ہوگی۔‘

یہ پوچھنے پر کہ پاکستانی دورے کے دوران لشکرِ طیبہ یا حزب المجاہدین کی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں سے وہ کیا اخذ کرتے ہیں، میرواعظ نے بتایا: ’عسکری قیادت بھی حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر حکومت ہند مسئلہ کشمیر کے بارے میں روایتی ہٹ دھرمی چھوڑ دے تو وہ لوگ (عسکری قیادت) بھی لچک کا مظاہرہ کرے گی۔‘

میرواعظ نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی بعض سیاسی جماعتیں چینی سفارت کاروں کے ساتھ رابطہ میں ہیں اور ’عنقریب حریت کانفرنس کا وفد چین جائےگا۔‘ میرواعظ کا کہنا ہے: ’جہاں سے بھی سفارتی مدد ملے گی ہم حاصل کریں گے۔‘

کشمیر میں مسلح تحریک کے نئے امکانات کے بارے میں میرواعظ عمر کا کہنا ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کو ہراساں کرکے پولیس اور فوج انہیں تشدد کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ’ہم تو سمجھتے ہیں کہ آج کے حالات میں مسلح مزاحمت اب عالمی سطح پر قبول نہیں کی جارہی ہے۔ لیکن جب ہمارے نوجوانوں کے لیے جمہوری راستے مسدود کیے جائیں تو وہ کہاں جائیں گے؟‘

"ہم تو سمجھتے ہیں کہ آج کے حالات میں مسلح مزاحمت اب عالمی سطح پر قبول نہیں کی جارہی ہے۔ لیکن جب ہمارے نوجوانوں کے لیے جمہوری راستے مسدود کیے جائیں تو وہ کہاں جائیں گے؟"

میر وعظ

اگر واقعی طالبان نے کشمیر کا رُخ کیا تو بات چیت اور امن عمل کی حامی حریت کانفرنس ان کی حمایت کرے گی؟ اس کے جواب میں میرواعظ کہتے ہیں: ’اگر انتہاپسند قوتیں غالب آگئیں تو امن عمل اور اس میں یقین رکھنے والے حلقے غیرمتعلق ہوجائیں گے۔ پھر یہ سوال نہیں ہوگا کہ ہم ان کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں، وہ تو حکومت ہند کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔‘

میرواعظ نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں اندرونی انتشار کی وجہ سے فی الوقت مسئلہ کشمیر پاکستانی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست نہیں ہے، لیکن وہ اس مسئلہ سے مکمل طور پر دامن نہیں جھاڑ سکتے۔‘

کشمیر میں حکومت سازی کے لیے ہونیوالے انتخابات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ الیکشن اور حکومت سازی کے باوجود بھارت کشمیر کی متنازع حیثیت کو زائل نہیں کر سکا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں کوئی تحریک لوگ چلاتے ہیں اور لوگوں کے مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا خیال ہے کہ ’لوگ تحریک کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس دوران بجلی پانی اور سڑک کے لیے اگر وہ کہیں ووٹ ڈالتے ہیں ہم ان کو مجرم نہیں سمجھیں گے۔‘

میرواعظ نے کہا کہ بھارت کشمیر میں ہونے والے انتخابات کو عالمی سطح پر حق خود ارادیت کے متبادل کے طور استعمال کرتا رہا ہے ’لیکن یہ تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔