جاوید میانداد کو بھارتی ویزہ دینے پر تنازع

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 3 جنوری 2013 ,‭ 15:57 GMT 20:57 PST
جاوید میاں داد

جاوید میانداد نے دلی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والے میچ میں شرکت کرنی ہے

بھارتی حکومت نے پاکستان کے سابق کرکٹ کھلاڑی جاوید میانداد کو ویزا دینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد انہیں ویزا جاری کیا گیا ہے۔

لیکن حکمران جماعت کانگریس سمیت حزب اختلاف کی دیگر کئی جماعتوں نے پاکستان کے سابق کرکٹ کھلاڑی جاوید میاں داد کو ویزا دینے کی سخت مخالفت کی ہے۔

بھارتی حکومت نے جاوید میاں داد کو ویزا جاری کیا ہے تاکہ وہ چھ جنوری کو دلی میں پاکستان اور بھارت کے مابین تین ون ڈے میچوں کی سیریز کے آخری میچ میں شریک ہوسکیں لیکن اس فیصلے پر ہر جانب سے سخت نکتہ چینی ہو رہی ہے۔

وزیرخارجہ سلمان خورشید نے دلی میں اس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہاکہ حکومت نے تمام احتیاطی تدابیر اور پہلوؤں کے جائزے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’یہ حکومت کا فیصلہ ہے، کیا حالات ہیں، کن امور پر غور ہوا، منظوری کب دی گئی اور اس میں کیا ہوا یہ سب حکومت کے داخلی معاملات ہیں اور اس میں آخر مشکل کیا ہے؟‘

سلمان خورشید نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ’تمام پہلوؤں کے جائزے کے بعد یہ فیصلہ کیا گيا ہے۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ اس بارے میں کوئي بھی قانون جس پر عمل کرنا ضروری ہو یا ایسا احتیاطی اصول جس پر عمل ضروری ہے اس پر عمل نہیں کیا گیا ہوگا‘۔

"اس بات کی انکوائری ہونی چاہیے کہ یہاں کون لوگ ہیں جو وزارت خارجہ یا داخلہ میں داؤد ابراہیم کے لوگ ہیں۔ لگتا ہے کہ داؤد نے جیسے پورے ملک کو خرید لیا ہو، ہم ان کے ویزے کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں"

شیو سینا ترجمان سنجے راؤت

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا وزارتِ داخلہ کی منظوری کے بغیر کسی بھی پاکستانی شہری کو ویزہ جاری نہیں کیا جاتا اور وزارت داخلہ تمام انٹیلیجنس ایجنسز، بشمول اپنے مشن سے، معلومات لیے بغیر ایسا نہیں کرتی ہے۔

لیکن حکمراں جماعت کانگریس پارٹی کے ایک رہنما جگدمبکا پال نے حکومت کے اس فیصلے پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا داؤد ابراہیم کے سمدھی کو ویزا دیا جانا قطعی درست نہیں ہے۔

’داؤد ابراہیم ہمارے لیے اب بھی موسٹ وانٹیڈ ہیں اور پاکستان سے ہم انہیں واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ پاکستان کہتا ہے کہ وہ وہاں نہیں ہیں۔ تو ان کے سگے سمدھی کو ویزا دینے سے یہاں لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچےگي‘۔

اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان مختار عباس نقوی نے کہاکہ’داؤد ابراہیم جیسے لوگ، جو دہشت گردی کی فیکٹریوں کو پال رہے ہوں، تو ان کا کوئی بھی قریبی رشتےدار یہاں سرکاری مہمان بن کے آئے تو بھارتی اسے قبول نہیں گریں گے‘۔

عباس نقوی نے کہا جس شخص سے بھی بھارتی نفرت کرتے ہوں اس سے منسوب کسی بھی شخص کو حکومت کو نہیں آنے دینا چاہیے۔

علاقائی جماعت شیو سینا نے کہا کہ داؤد ابراہیم ملک سے بغاوت کے مجرم ہیں۔ پارٹی کے ترجمان سنجے راؤت نے کہا کہ اس ویزا معاملے کی تفتیش کی ضرورت ہے۔

’اس بات کی انکوائری ہونی چاہیے کہ یہاں کون لوگ ہیں جو وزارت خارجہ یا داخلہ میں داؤد ابراہیم کے لوگ ہیں۔ لگتا ہے کہ داؤد نے جیسے پورے ملک کو خرید لیا ہو، ہم ان کے ویزے کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔

بی جے پی کے رہنما اور سابق کرکٹ کھلاڑی کیرتی آزاد نے بھی حکومت کے اس فیصلے پر سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ جاوید میاں داد کو دو ہزار پانچ سے حکومت نے ویزا نہیں دیا تھا اور اب کیوں دے دیا گیا۔

بعض دیگر سماجی کارکنان اور مذہبی رہنماؤں نے بھی حکومت کے اس فیصلے پر نکتہ چینی کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔