’اس نے کہا سوری اور پھر آنکھیں موند لیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 3 جنوری 2013 ,‭ 04:38 GMT 09:38 PST

’اس کا خواب تھا کہ وہ اپنے گاؤں میں ایک ہسپتال بنوا سکے‘

دنیا والوں کے لیے اس کی پہچان دلّی میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کی ہے لیکن اس کی تکلیف اور پھر ہلاکت کے غم سے نبردآزما اہلِخانہ کے لیے وہ ایک ایسی لڑکی تھی جس کا خواب دوسروں کی تکالیف کا مداوا تھا۔

تئیس سالہ طالبہ کے خاندان والوں سے بات چیت کے بعد اس لڑکی کی تصویر ایک ایسی خاتون کے طور پر ابھرتی ہے جس کی بڑی خواہش اپنے خاندان کی ترقی میں مدد فراہم کرنا تھی۔

نئی دلی میں پیدا ہونے والی یہ لڑکی اس وقت سے ہی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی جب سے اس نے گڑيوں سے کھیلنا شروع کیا۔

چاہے وہ اپنی زندگی میں وہ چند مرتبہ ہی اپنے گاؤں آئی تھی لیکن اس کا خواب تھا کہ وہ اپنے گاؤں میں ایک ہسپتال بنوا سکے۔

اس کےگاؤں سے سب سے قریبی ہسپتال کم سے کم بارہ کلومیٹر دور ہے اورگاؤں کی پگڈنڈياں اتنی خراب ہیں کہ برسات میں گاؤں سے باہر جانا آسان کام نہیں۔

ان کے دادا نے ہمیں بتایا کہ ’ہمیں اس پر فخر تھا۔ اسے پتہ تھا کہ ہمارے گاؤں میں کوئی انتظام نہیں ہے۔ اس نے کہا تھا کہ اگر وہ ڈاکٹر بنتی ہے تو اس کی کوشش ہے کہ کسی ہسپتال کا انتظام ہو جائے تاکہ مقامی لوگوں کی خدمت ہو۔‘

بےحد مشکل سے اپنے آنسوؤں پر قابو پاتے ہوئے ان کے والد نے بتایا، ’اس نے مجھ سے کہا کہ پاپا مجھے ڈاکٹر بناؤ، میں نے اپنی کمزور معاشی حالت کا حوالہ دیا، رشتہ داروں کے ذریعے سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ میں نے اس سے کہا کہ ہم اپنے حالات کے مطابق تمہیں پڑھائیں گے۔ میں نے اسے کہہ دیا تھا کہ میں تمہیں ڈاکٹری کی تعلیم نہیں دلواؤں گا۔‘

ان کے والد کا کہنا ہے کہ اس بات چیت کے تھوڑی دیر بعد ان کی بیٹی کو چکر آیا اور وہ گر گئی۔ انہوں نے اسے اٹھایا اور کہا ’بیٹا تمہیں جو پڑھنا ہے تم پڑھو۔ اگر اس کے لیے مجھے اپنے آپ کو گروی رکھنا پڑے گا تب بھی ہم تمہیں پڑھائیں گے۔‘

ان کے والد نے کہا، ’اُس کا خواب ایم بی بی ایس تھا، لیکن میری اتنی اوقات نہیں تھی۔ اس لیے اس نے فزیوتھراپی کا کورس کیا۔‘

دن رات محنت کرنے والی یہ لڑکی زندگی میں اپنے خاندان کے لیے کچھ بڑا حاصل کرنا چاہتی تھی اور یہ اس کی محنت کا ہی پھل تھا کہ باپ کی اس لاڈلی کا گھر ٹرافیوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ کتابوں کو اپنا دوست کہا کرتی تھی اور ریاضی سے اسے خاص محبت تھی۔

لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی بے حد ضدی تھی اور اس کی ضد ہی تھی کہ اس نے زندگی کی بلندیوں تک جانے کی کوشش کی۔ گھر کے حالات اسے ایسے خواب دیکھنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے لیکن اس لڑکی نے ہار نہیں مانی۔

اس سوال پر کہ کیا انہیں دلی میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے اپنی بیٹی کی حفاظت کو لے کر فکر نہیں ہوتی تھی، والد نے کہا کہ ان کی بیٹی بےحد بے خوف لڑکی تھی اور دہرا دون اور دلی کا سفر اکیلے رات میں کیا کرتی تھی۔

اس لڑکی کا اپنے گاؤں میں آنا جانا بہت کم تھا۔ تین کمرے کے چھوٹے سے گھر میں جہاں بجلی بھی نہیں تھی، وہاں اس کی بے حد ضعیف دادی اپنی پوتی کا غم منا رہی تھیں۔ ان کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے اور زبان لڑکھڑا رہی تھی اور وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ بیٹی سے ملاقات ہوئے آٹھ سال ہو چکے اور اب تو اس سے کبھی بھی ملاقات نہیں ہو پائے گی۔

لڑکی کا بھائی اس خاندان کا آخری فرد ہے جس نے اس واقعے سے قبل لڑکی سے بات کی تھی۔ اب ان کے پاس ایک رحم دل اور محنتی بڑی بہن کی یادیں ہی بچی ہیں جو اپنے دو چھوٹے بھائیوں کے لیے ایک مثال تھی۔

’وہ دن رات پڑھتی تھی۔ ہمیں پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ وہ کب سوئی اور کب اٹھی۔‘

اس واقعے کے خلاف بھارت بھر میں احتجاج ہوا ہے

یہ بھائی اب اپنی بہن سے چھوٹی موٹی نوک جھوک کو یاد کر کے روتا ہےجو بیشتر تو ٹی وی کے ریموٹ کے حصول کے لیے ہوتی تھیں۔ اس لڑکی کو ٹی وی پر آنے والے ڈرامے اور پروگرام خصوصاً بگ باس بہت پسند تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’وہ کسی سے نہیں ڈرتی تھی۔ ہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اس کی قسمت میں یہ لکھا ہوگا۔ خود اس نے بھی کبھی نہیں سوچا ہوگا۔‘

حادثے کا دن یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’ان کا آخری فون سات بجے آیا تھا۔ میں نے ہی ان کا فون اٹھایا تھا۔ انہوں نےکہا کہ میں تھوڑی دیر میں آ جاؤں گی۔ جب میں نے آٹھ بجے کے بعد ان کا نمبر ڈائل کرنا شروع کیا تو ان کا نمبر نہیں ملا‘۔

’ کرسمس کے دن جب انہیں دلی کے ہسپتال میں ہوش آیا تو اشارے سے انہوں نے مجھ سے کہا کہ ’میں اوپر جا رہی ہوں بھائی۔ وہ ہماری آخری ملاقات تھی۔‘

سنگاپور میں ہسپتال میں مذکورہ لڑکی کے آخری لمحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کے والد نے کہا کہ ’اس نے اپنی ماں کو پکڑ کر کئی بار سوری، سوری کہا اور اس کے بعد اس کی آنکھیں بند ہوگئیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔