دلی میں مزید ویمن پولیس تعینات کی جائے گی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 12:31 GMT 17:31 PST

فی الحال دہلی کے بہت سے تھانوں میں زنانہ عملے کا ایک رکن بھی نہیں ہے

بھارت نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ دارالحکومت دلی میں ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور ان کی ہلاکت کے واقعے کے بعد شہر میں زیادہ ویمن پولیس تعینات کی جائے گی۔

اس واقعے کے سلسلے میں پانچ افراد پر تئیس سالہ طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کی فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

مذکورہ خاتون گذشتہ ہفتے سنگاپور کے ایک ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسی تھیں۔

ان افراد پر فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا، جہاں انھیں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ ایک چھٹے ملزم پر نوجوانوں کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

اسی دوران وزیرِ داخلہ نے تمام ریاستوں کے حکام کا اجلاس بلا لیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سشیل کمار شندے جمعے کے روز ریاستی چیف سیکریٹریوں اور پولیس کے سربراہوں سے ملاقات میں اس بات پر غور کریں گے کہ خواتین کے خلاف جرائم کو کس طرح ختم کیا جائے۔

جمعرات کے روز ایک بس کے ڈرائیور سمیت پانچ ملزموں پر ایک مجسٹریٹ کے سامنے فردِ جرم عائد کی گئی، تاہم یہ مقدمہ ہفتے کے روز خصوصی طور پر قائم شدہ تیز رفتار عدالت میں منتقل کر دیا جائے گا۔

توقع ہے کہ مقدمہ اختتامِ ہفتہ تک شروع ہو جائے گا۔

اگرچہ بھارت میں یہ لازمی ہے کہ ملزم جسمانی طور پر عدالت میں حاضر ہو، جمعرات کے روز ملزمان کو سکیورٹی خدشات کی بنا پر عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

" میں نے دلی کے ہر تھانے پر دو زنانہ سب انسپکٹر اور سات زنانہ کانسٹیبل تعینات کرنے کے لیے فائل پر دستخط کر دیے ہیں۔"

وزیرِ داخلہ شندے

اس مقدمے سے متعلق عدالت کے کاغذات ایک ہزار سے تجاوز کر گئے ہیں اور ان میں خاتون کا مرنے سے قبل بیان بھی شامل ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے 30 کے قریب گواہ تیار کر لیے ہیں۔

بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ان کا کوئی رکن ملزموں کا دفاع نہیں کرے گا، اس لیے عدالت خود ہی وکیلِ دفاع مقرر کرے گی۔

جمعرات کی رات وزیرِ داخلہ شندے نے اعلان کیا کہ دلی کے تمام 166 پولیس تھانوں پر ہر وقت ویمن پولیس دستیاب ہو گی۔

انھوں نے رپورٹروں کو بتایا کہ ’میں نے دلی کے ہر تھانے پر دو ویمن سب انسپکٹر اور سات ویمن کانسٹیبل تعینات کرنے کے لیے فائل پر دستخط کر دیے ہیں۔‘

فی الحال دلی کے بہت سے تھانوں میں خواتین عملے کا ایک رکن بھی نہیں ہے، اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بعض اوقات پولیس کے لیے جرائم کا شکار کسی خاتون کی مدد کرنا ’مشکل‘ ہو جاتا ہے۔

وزیرِ داخلہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب دلی میں خاتون کی ہلاکت کے بعد عوام برہم ہیں۔

ریپ کے واقعے کے بعد ہر روز مظاہرے ہو رہے ہیں، اور مظاہرین بھارت میں عورتوں کے خلاف رویے پر اجتجاج کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں خواتین کے خلاف جرائم کے قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔