ریپ پر یہ بے کار کی بحث کب تک؟

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 جنوری 2013 ,‭ 14:32 GMT 19:32 PST
دوسرا پہلو

بھارت میں ریپ کے واقعات پر بحث جاری ہے۔

بھارت میں گزشتہ مہینے تیئیس سالہ طالبہ کے ریپ اور ہلاکت کا معاملہ اب پورے ملک میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

اس واقعہ کے ملزموں کے ‏خلاف باضابطہ طور پر قانونی کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے اور ہر طرف سے قصور واروں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

پچھلے برس دلی میں چھ سو پینتیس ریپ کے واقعات درج کیے گئے تھے اور ان میں سے صرف ایک کیس میں ملزم کو سزا ہوئی تھی۔

تیئیس سالہ طالبہ کے واقعے کے بعد بھی دلی اور اس کے اطراف میں میں ریپ کے کم از کم پندرہ واقعات درج کیے گئے ہیں۔

ملک کے مختلف علاقوں میں اجتماعی جنسی زیادتی یعنی گینگ ریپ اور ریپ کے بعد متاثرہ لڑکی کو قتل کیے جانے جیسے بہیمانہ واقعات کی خبریں روزانہ ہی اخبارات میں شا‏ئع ہو رہی ہیں۔ مظاہروں، احتجاج اور بحث و مباحثوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بیشتر لوگ ریپ کے مرتکبین کو سزائے موت دیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ریپ کے مسئلے کا واحد اور موثر حل سزائے موت ہے۔

ایسے ہی مباحثوں کے دوران ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے یہ بیان دے کر ایک نئی بحث چھیڑ دی کہ ریپ کے واقعات شہری علاقوں میں ہو رہے ہیں اور دیہی علاقوں میں جہاں بقول ان کے بھارتی تہذیب اب بھی بچی ہوئی ہے ریپ کے واقعات نہیں ہوتے۔

موہن بھاگوت کے مطابق بھارتی تہذیب میں خواتین کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اورریپ کا مسئلہ وہاں پیدا ہو رہا ہے جہاں مغربی اثرات بڑھ رہے ہیں۔ موہن بھاگوت کے بیان کے بعد بعض ماہر سماجیات نے ریپ کے سرکاری اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ریپ کے تین چوتھائی یا پچہتر فی صد واقعات دیہی علاقوں میں درج کیے گئے ہیں۔ متاثرین میں بیشتر وہ تھے جو غریب اور کمزور تھے اور عموماً پسماندہ ذات کے تھے۔

ریاست مدھیہ پردیش کے ایک بی جے پی کے وزیر نے کہا خواتین کو اپنی حدود میں رہنا جاہیے۔ بقول ان کے اگر خواتین اپنی طے شدہ حدود توڑیں گی تو پھر انہیں اس کی سزا تو ملے گی ہی۔ کچھ دنوں پہلے صدر مملکت کے صاحبزادے اور رکن پارلیمان نے ریپ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو ’ڈینٹیڈ اور پینٹیڈ‘ کہ کر اپنی محدود سوچ کا مظاہرہ کیا تھا۔

ریپ کے خلاف مظاہرہ

دلّی میں ریپ کے خلاف مظاہرہ نے حکومت کو کافی حد تک اس بارے میں سنجیدگی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ریپ تشدد کا سب سے بد ترین طریقہ ہے اور بھارت میں صرف ریپ ہی تشددکا طریقہ نہیں ہے۔ بہت سے دوسرے جرائم بھی ہیں جو سنگین نوعیت کے ہیں۔ لیکن ان میں سے ریپ ایک ایسا جرم ہے جس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے اس کی دو اہم وجہیں ہیں۔ ایک تو معاشرے میں خواتین کی کم وقعت اور دوسرے آبادی میں لڑکیوں کا تناسب کم ہونا۔

بھارت کا شمار دنیا کے ان بدترین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کا تناسب بہت کم ہے۔

ماہرین کے اندازوں کے مطابق آئندہ سات برس یعنی 2020 تک بھارت میں سولہ سے 35 برس کے ایسے نوجوانوں کی تعداد تقریباً تین کروڑ ہو گی جن کے لیے ملک میں لڑکیاں نہیں ہو نگی۔ ماہر سماجیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کے نوجوان مستقل تنہائی، مایوسی اور سماجی زندگی سے کٹے ہونے کے سبب جرائم کی طرف آسانی سے مائل ہونے کا رجحان رکھتے ہونگے۔ یہ صورتحال بھارت کے لیے بہت گمبھیر ہے۔

بھارت میں ریپ کے مسئلے کے حل کے لیے مجرمانہ ذہنیت پیدا ہونے سے پہلے اس پر مثبت طریقے سے روک لگانی ہو گی۔ معاشرے میں لڑکیوں کے بارے میں فرسودہ سوچ کو بدلنا ہو گا اور ساتھ ہی پولیس کے پورے نظام کی اصلاح کرنی ہوگی۔ پولیس کا نظام اتنا برا ہے کہ لوگ پولیس والوں کو بھی مجرموں کے زمرے میں ہی سمجھتے ہیں۔ صرف سزائیں سخت کر دینے سے جرائم ختم نہیں ہوتے۔ اس کے لیے ایک منظم طریقۂ کار اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنی پڑتی ہے۔

بھارت میں اس وقت بیشتر بحث ریپیسٹ کو موت کی سزا دینے کے جذباتی سوال پر مرکوز ہے۔ معاشرے میں جرائم پر قابو پانے کے لیے صرف ریپ ہی نہیں ہر چھوٹے بڑے جرم کو قابو میں کرنا ہو گا۔ اور اس کے لیے صرف سیاسی جماعتوں کو ہی نہیں معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔