سوپور قتل عام نے عوامی سوچ بدل دی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 6 جنوری 2013 ,‭ 17:20 GMT 22:20 PST
غلام علی

سوپور قتل عام میں غلام علی بڑی مشکل سے زندہ بچ سکے تھے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں چھ جنوری سنہ اُنیس سو ترانوے کو سرکاری ٹرانسپورٹ کمپنی کا ایک ڈرائیور ستّر سالہ غلام علی لون اپنی مسافر بس لے کر سوپورسے بانڈی پورہ کی جانب روانہ ہوئے۔

ابھی وہ سوپور کے مرکزی بازار میں ہی تھا کہ قصبے میں فائرنگ اور آگ سے کہرام مچ گیا۔ اس روز مسلح حملے کے بعد بھارتی افواج نے کئی جگہوں پر لوگوں پر فائرنگ کی اور بازاروں کو آگ لگا دی۔

غلام علی کی مسافر بس پر جب بھارتی اہلکاروں نے دھاوا بولا تو ستائیس افراد میں سے زندہ بچ جانے والے غلام علی اکیلا شہری تھے۔ غلام علی کہتے ہیں ’مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آتا کہ میں کیسے بچ گیا؟‘۔

پولیس ریکارڑ کے مطابق سوپور میں قائم بھارتی بارڈر سیکورٹی فورسز کے ایک کیمپ میں بم دھماکہ اور فائرنگ ہوئی جس میں ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔

غلام علی کے مطابق جب بس میں مسلح افواج کےاہلکار داخل ہوئے تو وہ سیٹ کے نیچے چھپ گئے اور بعد میں کھسک کر مقامی سینما ہال میں پناہ لی۔

سنہ اُنیس سو نواسی میں مسلح تحریک شروع ہوتے ہی اس سینما ہال میں بھی آگ لگا دی گئی تو سینکڑوں افراد کے ہمراہ غلام علی وہاں سے بھی فرار ہوئے۔

سوپور کے تاجر طارق احمد کنجوال اپنے والد کے ہمراہ تحصیل روڑ پر واقع اپنی دکان میں تھے۔ طارق کہتے ہیں ’ہم نے دکان کا شٹر اٹھایا تو معلوم ہوا کہ گاڑیوں پر فائرنگ کر کے ان میں آگ لگائی جا رہی تھی۔ اتنے میں بی ایس ایف کے ایک افسر نے ہماری دکان میں گن پاوڑر چھڑک کر آگ لگا دی اور شٹر بند کردیا۔ میرے سامنے میرے والد نے دم توڑ دیا، جو لوگ پناہ کے لیے آئے تھے وہ بھی مرگئے‘۔

" شٹر اُٹھانے پر معلوم ہوا کہ گاڑیوں پر فائرنگ کر کے ان میں آگ لگائی جا رہی تھی۔ اتنے میں بی ایس ایف کے ایک افسر نے ہماری دکان میں گن پاوڑر چھڑک کر آگ لگا دی اور شٹر بند کردیا۔ میرے سامنے میرے والد نے دم توڑ دیا۔"

طارق کنجل

ادھر سوپور کے تاجروں نے آج نجی سطح پر فاتحہ خوانی کی مجالس کا اہتمام کیا۔ ایسی ہی ایک مجلس کے موقع پر بعض تاجروں نے بتایا کہ چھ جنوری کے واقعے نے سوپور کے نوجوانوں میں بھارت مخالف جذبات کو انتہائی حد تک بھڑکا دیا ہے۔

ٹریڈر فیڈریشن کے سیکٹری وجاحت احمد نے بتایا کہ چھ جنوری کا واقعہ سوپور کی پوری آبادی کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ ’ ہم لوگ امن پسند تھے۔ اس کے بعد یہاں کے نوجوانوں میں بغاوت کی آگ بھڑک اُٹھی اور مسلح مزاحمت ایک دفاعی ضرورت بن گئی‘۔

چھہ جنوری کے سانحہ کے بعد بھارتی سیاست دانوں اور بعض سرکاری افسروں نے افسوس کا اظہار کیا لیکن مقامی افراد کے مطابق اس کے بعد ستائیس مرتبہ سوپور میں اس طرح کے مناظر دوہرائے گئے۔

سیب کی کاشت کے لیے مشہور سوپور قصبہ اقتصادی طور پر کافی آسودہ ہے لیکن اس کے باوجود علیٰحدگی پسندی اور مسلح عسکریت پسندی کے لیے حکومت اس قصبہ کو خطرناک سمجھتی ہے۔

کشمیر میں فی الوقت بظاہر سکون ہے لیکن سوپور جیسے واقعے کے متاثرین کو بیس سال سے انصاف یا امداد نہ ملنے کی وجہ سے آبادی میں حکومت کے خلاف غصہ موجود ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔