راج ٹھاکرے کے بیان پر سیاسی ہنگامہ

آخری وقت اشاعت:  پير 7 جنوری 2013 ,‭ 00:42 GMT 05:42 PST
راج ٹھاکرے

راج ٹھاکرے کے اس بیان پر شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے

مہاراشٹر میں بہار کے لوگوں کے بارے میں متنازع بیان دینے پر مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے کی سیاسی رہنماوں نے سخت تنقید کی ہے۔

راج ٹھاکرے نے دلی میں جنسی زیادتی کے حالیہ واقعے کے بارے میں ایک بیان میں کہا کہ ’ہر کوئی ریپ، ریپ کا شور مچا رہا ہے لیکن اس جرم میں شامل تمام لوگ بہار سے ہیں یہ کوئی نہیں بتا رہا‘۔

راج ٹھاکرے کے اس بیان پر شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے کانگریس کے رہنما راشد علوی نے کہا کہ راج ٹھاکرے کا یہ بیان قابلِ افسوس ہے اور اس طرح کے بیانات سے نہ صرف ملک کمزور ہوتا ہے بلکہ جمہوریت پر بھی سوالیہ نشان لگتا ہے۔

بہار کے سابق وزیرے اعلٰی لالو پرساد یادو نے کہا کہ اس طرح کی بات نہیں کہی جانی چاہئیے۔

جنتا دل یونائٹڈ کے رہنما علی انور کا کہنا تھا کہ کسی بھی جرم کے لیے کسی ایک علاقے یا ریاست کے لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرانہ جائز نہیں ہے۔

بہار میں بی جے پی کے رہنما گری راج سنہا نے کہا کہ راج ٹھاکرے نفرت پھیلا کر سیاست کی سیڑھیاں چڑھنا چاہتے ہیں لیکن اس سے آپ زیادہ دیر تک سیاست نہیں کر سکتے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔