دلی ریپ:فردِ جرم عائد، ’ان کیمرہ‘ سماعت کا حکم

آخری وقت اشاعت:  پير 7 جنوری 2013 ,‭ 12:03 GMT 17:03 PST

عدالت کے آس پاس سکیورٹی اہلکاروں کا سخت پہرہ ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں عدالت نے ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے ملزمان پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کرتے ہوئے مقدمے کی ’ان کیمرہ‘ سماعت کا حکم دیا ہے۔

پولیس حکام پیر کی صبح ملزمان کو لے کر عدالت پہنچے تو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں لاک اپ میں ہی رکھا گیا اور مقررہ وقت پر اُنھیں عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا۔

دوپہر تک عدالت کے باہر بھیڑ اور ہنگامہ آرائی کے پیشِ نظر پولیس نے ملزمان کو ’لاک اپ‘ سے نہیں نکالا اور دوپہر بعد ہی انہیں میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔

جب سماعت شروع ہوئی تو ملزمان کو فردِ جرم کی نقل دی گئی جس میں ان پر اغواء، اجتماعی جنسی زیادتی اور قتل کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

اس مقدمے کی آئندہ سماعت دس جنوری کو ہوگی اور باور کیا جا رہا ہے کہ اس سماعت پر مقدمہ فاسٹ ٹریک عدالت میں منتقل کر دیا جائے گا۔

پیر کو عدالت میں ہنگامہ آرائی کی وجہ دو وکلاء کی جانب سے ملزمان کی پیروی کرنے کا فیصلہ بنا۔ اطلاعات کے مطابق بار کونسل نے پہلے ہی ملزمان کے کیس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا لیکن جب دو وکلاء نے ان کی نمائندگی کا فیصلہ کیا تو ہنگامہ شروع ہوگیا۔

ان تمام حالات کی وجہ سے عدالت نے مقدمے کی سماعت کے آغاز پر ہی تمام غیر متعلقہ افراد کو باہر جانے کو کہا اور ان کیمرہ سماعت کا حکم دیا۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت سے متعلق خبروں پر بھی پابندی لگا دی ہے اور کہا عدالتی اجازت کے بغیر سماعت سے متعلق اطلاعات نشر نہ کی جائیں۔

سنیچر کو ساکیت کی مخصوص فاسٹ ٹریک عدالت نے ملزمان پر عائد فرد جرم کا باقاعدہ نوٹس لیا تھا اور اس کے مختلف پہلوؤں کے جائزے کے بعد سوموار سات جنوری کو ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ پانچ ملزمان میں سے دو نے سرکاری گواہ بننے کی پیشکش کی ہے اور اب یہ عدالت پر ہے کہ اس بارے وہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ موت کی سزا سے بچنے کے لیے دونوں نے یہ قدم اٹھایا ہے اور سرکاری وکیل کی جانب سے اس کی مخالفت کی جا سکتی ہے۔

اس ریپ کے بعد دلی میں ریپ کے خلاف زبردست مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔

پولیس نے جو فردِ جرم عائد کی ہے اس میں پانچ ملزمان پر اغوا کرنے، قتل کا اقدام کرنے اور اجتماعی جنسی زیادتی جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ اگر عدالت ان افراد کو ان جرائم میں قصوروار پاتی ہے تو انھیں موت کی بھی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے اس کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی اور اسے امید ہے کہ ایک ماہ کے اندر سماعت مکمل ہوجائیگي۔

اس واقعے میں ملوث ایک اور ملزم کی عمر کم بتائی جا رہی ہے چنانچہ اس پر بچوں کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائےگا۔ پولیس نے اس مقدمے میں چھ افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں بس کا ڈرائیور بھی شامل ہے۔

مقدمے کے پانچ ملزم دلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں جبکہ نابالغ ملزم کو بچوں کے اصلاح خانے میں رکھا گیا ہے۔

جنسی زیادتی کا یہ واقعہ سولہ دسمبر دو ہزار بارہ کی رات اس وقت پیش آیا تھا جب مذکورہ لڑکی رات گئے اپنے دوست کے ہمراہ فلم دیکھنے کے بعد ایک بس میں سوار ہوئی تھی۔ جنوبی دلی کے علاقے دوراکا میں اس لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔

دلی کی عدالت میں پیش چارج شیٹ کے مطابق بس میں لڑکی اور اس کے دوست کے ساتھ پہلے چھیڑ چھاڑ کی گئی اور پھر ان پر حملہ کیا گیا۔

جنسی زیادتی کی شکار لڑکی کو حملے میں زبردست چوٹیں آئی تھیں جن کا پہلے دلی کے ہسپتال اور پھر سنگاپور میں علاج ہوا لیکن علاج کے دوران ہی انتیس دسمبر کو وہ چل بسی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں تیس گواہ نامزد کیے ہیں جن میں دلی اور سنگاپور میں لڑکی کی جان بچانے کی کوشش کرنے والے ڈاکٹران بھی شامل ہیں۔

ہلاک ہونے والی لڑکی کا نزعی بیان اور اس کے زخمی ساتھی کا بیان بھی اس مقدمے میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔