بھارت کی لاپتہ لڑکیاں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 9 جنوری 2013 ,‭ 05:46 GMT 10:46 PST

بھارتی دارالحکومت نئی دلّی میں ایک لڑکی سے اجتماعی جنسی زیادتی نے بھارتی معاشرے میں عورت کے مقام پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔

اس ملک میں رحمِ مادر میں بچیوں کے قتل اور نوزائیدہ بچیوں کو ہلاک کرنے کے واقعات کے بارے میں اکثر لوگ جانتے ہیں لیکن بہت کم لوگوں کو اس ملک کی گلیوں سے اغوا کر لی جانے والی لڑکیوں کا علم ہے۔

رخسانہ بھی ایک ایسی ہی لڑکی ہے۔ وہ ایک مکان میں جھاڑو دے رہی تھی کہ اچانک پولیس کمرے میں داخل ہوئی۔

اہلکار اس کی جانب بڑھے اور چیخ کر پوچھا: تم کتنے سال کی ہو اور یہاں کیسے آئیں؟ رخسانہ کا جواب تھا، چودہ برس کی اور مجھے اغوا کیا گیا تھا۔

وہ کچھ اور کہنے ہی والی تھی کہ ایک ادھیڑ عمر خاتون وہاں پہنچی اور کہنے لگی۔ ’یہ جھوٹ بول رہی ہے۔ یہ اٹھارہ برس کی ہے، انیس کی ہونے والی ہے۔ میں نے اس کے لیے اس کے والدین کو رقم دی تھی۔‘

جب پولیس رخسانہ کو لے جانے لگی تو اس خاتون نے اس کے کان میں موجود بالیاں یہ کہتے ہوئے کھینچ کر اتار لیں کہ ’یہ تو میری ہیں۔‘

ایک سال قبل رخسانہ اپنے والدین اور دو بہن بھائیوں کے ہمراہ بھارت اور بنگلہ دیش کے ایک سرحدی گاؤں میں رہتی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ’مجھے سکول جانا اور اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ کھیلنا بہت پسند تھا۔‘ لیکن ان کا یہ بچپن اس وقت ختم ہوگیا جب تین افراد نے انہیں اغوا کر لیا۔

’انہوں نے مجھے چاقو دکھایا اور کہا کہ اگر مزاحمت کی تو وہ میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔‘

تین دن کے سفر کے بعد وہ بھارتی ریاست ہریانہ کے ایک گاؤں پہنچے جہاں رخسانہ کو ایک خاندان کو فروخت کر دیا گیا جس میں ایک ماں اور اس کے تین بیٹے شامل تھے۔

ایک سال تک اسے مکان سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔ اس دوران اس کی مالکن کا بڑا بیٹا باقاعدگی سے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ مارپیٹ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

رخسانہ کو بھارت اور بنگلہ دیش کے ایک سرحدی گاؤں سے اغوا کیا گیا تھا

رخسانہ کے مطابق ’وہ کہتا تھا۔ میں نے تمہاری قیمت ادا کی ہے سو اب تم وہی کرو جو میں کہتا ہوں۔ مجھے لگتا تھا کہ میں اپنے خاندان سے کبھی نہیں مل پاؤں گی۔ میں روز روتی تھی۔‘

بھارت میں ہر سال دسیوں ہزاروں لڑکیاں لاپتہ ہو جاتی ہیں۔ انہیں جسم فروشی یا زبردستی گھریلو کام کاج پر مجبور کیا جاتا ہے یا پھر رخسانہ کی طرح انہیں زبردستی شادی پر مجبور کیا جاتا ہے۔

بھارت میں رحمِ مادر میں بچیوں کے قتل اور نوزائیدہ بچیوں کو ہلاک کرنے کے واقعات کی وجہ سے ہریانہ جیسی ملک کی شمالی ریاستوں میں مرد اور خواتین کی تعداد انتہائی غیرمتناسب ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق بھارت میں پانچ کروڑ لڑکیاں صنفِ نازک کی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے غائب ہوئی ہیں۔

بھارتی حکومت ان اعدادوشمار کو تسلیم نہیں کرتی لیکن ہریانہ جیسے علاقوں میں حقیقت کچھ ایسی ہی ہے۔

رخسانہ کو خریدنے والے خاتون کا کہنا ہے کہ ’یہاں لڑکیاں ہیں ہی نہیں۔ یہاں بنگال سے لڑکیاں لائی جاتی ہیں۔ میں نے اس (رخسانہ) کے لیے رقم ادا کی تھی۔‘

اس بارے میں کوئی سرکاری اعدادوشمار موجود نہیں کہ بھارت کی شمالی ریاستوں میں شادی کے لیے کتنی لڑکیاں فروخت کی گئی ہیں لیکن سماجی کارکنوں کے مطابق اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ اس علاقے میں خواتین کی کمی اور دیگر بھارتی علاقوں میں شدید غربت ہے۔

سماجی کارکن رشی کانت کے مطابق ’شمالی بھارت کا ہر گھرانہ دباؤ کا شکار ہے۔ ہر گھر میں نوجوان لڑکے ہیں جنہیں کوئی لڑکی نہیں ملتی اور وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں۔‘

"طلب بڑھ رہی ہے اور اسی وجہ سے میں نے بہت رقم کمائی ہے۔ میں نے دلّی میں تین مکان خرید لیے ہیں۔ میں ایک سال میں ڈیڑھ سو سے دو سو لڑکیاں بیچتا ہوں جن کی عمریں دس سے سترہ برس کے درمیان ہوتی ہیں۔۔۔ میں خود ان علاقوں میں نہیں جاتا بلکہ وہاں میرے آدمی کام کرتے ہیں۔ ہم والدین کو بتاتے ہیں کہ ہم انہیں دلّی میں نوکری دلوائیں گے اور پھر ہمیں انہیں روزگار دلوانے والی ایجنسیوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس کے بعد کیا ہوتا ہے مجھے اس سے سروکار نہیں۔۔۔ پولیس سب جانتی ہے۔جب مجھے لڑکی کو لے جانا ہوتا ہے تو پولیس کو بتاتا ہوں اور ہر ریاست میں چاہے کلکتہ ہو، دلّی یا ہریانہ پولیس کو رشوت دیتا ہوں۔"

لڑکیوں کا ایک بیوپاری

مغربی بنگال میں بی بی سی نے سندربن کے صرف ایک ضلع 24 پرگانہ کے پانچ دیہات کا دورہ کیا جہاں تقریباً ہرگھرانے کا کوئی نہ کوئی بچہ لاپتہ تھا اور ان میں سے بیشتر لڑکیاں تھیں۔

دو ہزارہ گیارہ میں بھارت میں پینتیس ہزار بچوں کی گمشدگی کی رپورٹیں درج کروائی گئیں جن میں سے گیارہ ہزار کا تعلق مغربی بنگال سے تھا اور صوبے کی پولیس کے مطابق وہاں ایسے واقعات میں سے تیس فیصد ہی رپورٹ ہوتے ہیں۔

پانچ برس قبل طوفان کی وجہ سے چاول کی فصل کی تباہی کے بعد سے علاقے میں لڑکیوں کی فروخت کا عمل تیز ہوا ہے۔

مقامی کسان بیمل سنگھ ان ہزاروں افراد میں سے ہیں جو اس طوفان کی وجہ سے دو وقت کی روٹی کے محتاج ہوگئے اور جب ان کے ہمسائے نے ان کی سولہ سالہ بیٹی بسنتی کے لیے دلّی میں نوکری کی بات کی تو انہیں یہ ایک اچھی خبر لگی۔

بیمل سنگھ کے مطابق ’وہ ٹرین پر گئی۔ اس نے مجھ سے کہا، میری فکر نہ کریں۔ میں رقم کما کر واپس آؤں گی تاکہ آپ میری شادی کر سکیں‘۔ لیکن اس کے بعد کبھی بیمل سنگھ کا اپنی بیٹی سے رابطہ نہ ہو سکا۔

وہ کہتے ہیں ’پولیس نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔ وہ آئے، بیٹی کو لے جانے والے شخص کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر اسے گرفتار نہیں کیا۔ میں جب تھانے جاتا ہوں تو اچھا سلوک نہیں ہوتا۔ اب میں تھانے جانے سے خوفزدہ ہوں۔‘

کولکتہ کی ایک کچی آبادی میں ہمیں ایک ایسا شخص ملا جو لڑکیوں کا بیوپاری تھی۔ نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر اس نے بتایا کہ ’میں ایک سال میں ڈیڑھ سو سے دو سو لڑکیاں بیچتا ہوں جن کی عمریں دس سے سترہ برس کے درمیان ہوتی ہیں۔‘

بھارت میں ہر سال دسیوں ہزاروں لڑکیاں لاپتا ہو جاتی ہیں

’طلب بڑھ رہی ہے اور اسی وجہ سے میں نے بہت رقم کمائی ہے۔ میں نے دلّی میں تین مکان خرید لیے ہیں۔‘

اس نے بتایا کہ ’میں خود ان علاقوں میں نہیں جاتا بلکہ وہاں میرے آدمی کام کرتے ہیں۔ ہم والدین کو بتاتے ہیں کہ ہم انہیں دلّی میں نوکری دلوائیں گے اور پھر ہمیں انہیں روزگار دلوانے والی ایجنسیوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس کے بعد کیا ہوتا ہے مجھے اس سے سروکار نہیں۔‘

اس شخص کے مطابق اسے ہر لڑکی لانے پر پچپن ہزار روپے ملتے ہیں اور مقامی پولیس اور سیاستدانوں کا اس کاروبار میں اہم کردار ہے۔

’پولیس سب جانتی ہے۔جب مجھے لڑکی کو لے جانا ہوتا ہے تو پولیس کو بتاتا ہوں اور ہر ریاست میں چاہے کلکتہ ہو، دلّی یا ہریانہ پولیس کو رشوت دیتا ہوں۔‘

مغربی بنگل میں انٹی ٹریفکنگ یونٹ کے انچارج شنکر چکرورتی کے مطابق رشوت ستانی کا معاملہ بہت چھوٹا ہے اور ان کا یونٹ انسانوں کی خریدوفروخت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔

’جنگ جاری ہے۔ ہم نے تربیتی اور آگاہی کیمپ لگائے ہیں۔ ہم نے ملک کے مختلف علاقوں سے لڑکیاں برآمد بھی کی ہیں۔‘

ان کے مطابق اس یونٹ کا قیام ہی حکومت کے اس مسئلے سے نمٹنے کے عزم کا عکاس ہے اور اب مغربی بنگال کے ہر تھانے میں انٹی ٹریفکنگ افسر تعینات ہیں۔

سماجی کارکن رشی کانت کے مطابق ’صرف پولیس میں تبدیلی سے نتائج نہیں ملیں گے۔ اگر آپ ایک بچی پولیس کی مدد سے برآمد کر لیں تو اس سے آگے کیا؟‘ ان کا کہنا ہے کہ ’ضرورت باز آباد کاری کی ہے۔ ہمیں سماجی بہبود اور کارگر عدالتی نظام درکار ہے۔‘

سوال یہ ہے کہ جب تک بھارت میں خواتین کے تئیں معاشرے کا رویہ تبدیل نہیں ہوتا کیا لڑکیوں کے استحصال کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا؟

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔