بھارت: اقوام متحدہ سے تفتیش کی پیش کش نامنظور

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 جنوری 2013 ,‭ 12:45 GMT 17:45 PST
بھارتی فوجی

جن دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا ان کی لاشوں کو مبینہ طور پر مسخ کیا گیا ہے

بھارت نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کی ہلاکت کے معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے یا اقوام متحدہ سے تفتیش کرانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

بھارت کا الزام ہے کہ کشمیر کے پونچھ علاقے کے میندھرسیکٹر میں منگل کی دوپہر کوہرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول پار کرکے دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا اور ان میں سے ایک کا سر قلم کردیا گیا۔

لیکن پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے بدھ کو یہ پیش کش کی تھی کہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے واقعہ کی تفتیش بھارت اور پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے آبزرور مشن سے کرائی جائے ’کیونکہ ہم کچھ چھپانا نہیں چاہتے' ہیں۔

جمعرات کو سکیورٹی سے متعلق کابینہ کی کمیٹی کے اجلاس میں اس تنازعہ پر غور کیا گیا اور وزیر دفاع اے کے اینٹونی نے اس واقعہ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے کمیٹی کو تفصیلات فراہم کیں۔

کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر خزانہ پی چدامبرم نے کہا کہ’ ہم اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے یا اقوام متحدہ سے تفتیش کرانے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔ یہ مطالبہ ہم یکسر مسترد کرتے ہیں۔'

"ہم اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے یا اقوام متحدہ سے تفتیش کرانے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔ یہ مطالبہ ہم یکسر مسترد کرتے ہیں"

پی چدامبرم

بھارت یو این کے آبزرور گروپ کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کا موقف ہے کہ اس کی افادیت بہت پہلے ختم ہوچکی ہے۔ لیکن پاکستان نے گروپ سے چھ جنوری کے اس واقعے کی تفتیش کرنے کی درخواست کی ہے جس میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔

پاکستان کا الزام ہے کہ یہ فوجی بھارتی فوجیوں کے حملے میں مارا گیا تھا جو لائن آف کنٹرول پار کرکے پاکستانی حدود میں داخل ہوئے تھے۔ بھارت اس الزام کو مسترد کرچکا ہے۔

ایک علیحدہ پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ویزا کا نیا معاہدہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق پندرہ جنوری سے ہی عمل میں آئے گا۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ وزارت داخلہ کی معلومات کے مطابق اس واقعہ سے قبل حافظ محمد سعید پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود تھے لیکن اس معلومات سے یہ نتیجہ نہیں اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ حملے میں لشکر طیبہ کا ہاتھ ہے۔

بھارتی حکومت نے بدھ کو دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر سلمان بشیر کو طلب کرکے سخت الفاظ میں اپنی ناراضی ظاہر کی تھی۔ اسی کے بعد پاکستان نے تفتیش یو این سے کرانے کی پیش کش کی تھی۔

مسٹر چدمبرم نے کہا کہ ’ جو کچھ ہوا ہے اسے ہم بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔۔۔جو کچھ کیا جانا ہے وہ کیا جائے گا۔‘

فوجیوں کی ان ہلاکت کے واقعے پر بھارتی ذرائع ابلاغ میں زبردست ردعمل سامنے آیا ہے۔ حالانکہ ایک انگریزی اخبار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے جو کاروائی کی ہے وہ بھارت کی جانب سے کی سرحد پر کی گئی ایک فوجی کاروائی کا جواب تھا۔ اس خبر کو فوج اور حکومت دونوں نے مسترد کردیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔