فوجیوں کے پیٹ میں بم نصب

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 جنوری 2013 ,‭ 15:41 GMT 20:41 PST
ماؤنواز باغی

اس تصادم میں بعض ماؤنواز باغی بھی ہلاک ہوئے ہیں

بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں پولیس کے مطابق لاتیہار میں ماؤنواز باغیوں اورسیکورٹی فورسز کےدرمیان تصادم میں جن پانچ فوجیوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں ان میں سے تین کی لاشوں میں ماؤ نواز باغیوں نے دھماکہ خیز مواد لگا دیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سی آر پی ایف کے ایک جوان کی لاش ہٹاتے وقت ہوئے دھماکے کی وجہ سے پانچ افراد کی موت ہوگئی ہے۔

وہیں پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم کےلیے رانچی کے سرکاری ہسپتال لے جائےگئی جوانوں کی لاشوں سے بھی ڈاکٹروں کو دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔

اس واقع سے پولیس محکمہ میں ہل چل مچ گئی ہے۔

اس واقعے کے بعد مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ جھارکھنڈ میں ماؤنواز باغیوں سے لڑنے کے لیے اضافی سیکورٹی فورسز بھیجے گی۔

وہیں جھارکھنڈ کے پولیس ڈائریکٹر جنرل گوری شنکر رتھ کا کہنا تھا جب جوانوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال لایا گیا تو ان کے پیٹ پر ٹانکے نظر آئے۔

ڈاکٹروں کو جب شک ہوا تو انہوں نے ایکسرے کروایا۔ ایکسرے میں نظر آیا کہ ان کے پیٹ میں کچھ چیز موجود ہے جس میں تار جڑے ہوئے ہیں۔ ہسپتال میں افراتفری مچ گئی اور پھر بم ناکارہ کرنے والے دستے کو بلایا گیا۔.

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک پریشر بم تھا جو ماؤنواز باغیوں نے سی آر پی ایف کے جوانوں کے پیٹ کاٹ پر اس میں رکھ دیا تھا۔

تصادم کا یہ واقعہ پیر کی رات اس وقت پیش آیا تھا جب جھارکھنڈ کے لاتیہار ضلع کے اموواٹیکر کے جنگلات میں سیکورٹی فورسز اور ماؤنواز باغیوں کے درمیان کئی گھنٹے جھڑپ جاری رہی جس میں کئی جوان مارے گئے تھے۔

اس تصادم میں کئی ماؤنواز باغیوں کے بھی مارے جانے کی بات کہی جا رہی ہے۔ اس تصادم کے بعد سات جوانوں کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں لیکن پانچ کو لاپتہ بتایا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جیسے ہی گاؤں کے لوگ اور پولیس اہلکار ہلاک جوانوں کی لاشوں کو اٹھا رہے تھے تبھی ایک زور دار دھماکہ اور جس میں چار گاؤں والے اور ایک جوان کی موت ہوگئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چونکہ جوانوں کی لاشیں کافی دیر تک وہاں پڑی رہی اس لیے باغیوں کو ان کے پیٹ کاٹ کر بم نصب کرنے کا وقت مل گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔