بھارت: بس ریپ کے نئے واقعے میں چھ گرفتار

آخری وقت اشاعت:  اتوار 13 جنوری 2013 ,‭ 12:48 GMT 17:48 PST
ریپ مظاہرین

دلی میں ریپ کے واقعے کے خلاف بڑی تعداد میں لوگوں نے مظاہرے کیے۔

بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ گینگ ریپ کے ایک تازہ واقعے میں چھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

ریپ کا یہ نیا واقعہ بھارت کی شمال مغربی ریاست پنجاب میں پیش آیا ہے۔ پولیس ساتویں مشتبہ افراد کی تلاش میں ہے جو مبینہ طور پر ان میں شامل تھا۔

واضح رہے کہ بھارتی دارالحکومت دلّی میں ہونے والے اسی طرح کے ایک واقعے نے چند ہفتے قبل پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

گذشتہ ماہ دارالحکومت دلّی میں ایک تئیس سالہ لڑکی ریپ کا شکار ہو گئی تھی جس کے لیے پانچ لوگوں پر اس کے ساتھ ریپ اور قتل کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

اگر ان پر جرم ثابت ہوتا ہے تو گمان غالب ہے کہ انھیں موت کی سز ا سنائی جائے گی۔

دلی واقعے کے چھٹے ملزم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سترہ سال کا ہے اور اس کے خلاف کارروائی اطفال کی عدالت میں ہوگی اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ اٹھارہ سال سے کم عمر کا ہے۔

دلی میں ریپ کے واقعے پر زبر دست مظاہرے ہوئے اور حکومت کو فاسٹ ٹریک عدالت کے تحت اس مقدمے کی تیز سماعت شروع کرنی پڑی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ریپ کا نشانہ بننے والی ایک انتیس سالہ خاتون ہیں جو جمعہ کی رات کو ایک بس میں سوار ہوکر اپنے گاؤں جا رہی تھیں۔

ڈرائیور اور کنڈکٹر پر یہ الزام ہے کہ وہ اسے اس کے گاؤں کے بس سٹاپ پر اتارنے کے بجائے اسے امرتسر شہر کے قریب ایک ویران جگہ پر لے گئے۔

ان دونوں کے علاوہ مزید پانچ لوگ ان کے ساتھ ہو گئے اور باری باری رات بھر اس خاتون کے ساتھ ریپ کرتے رہے۔

اس کے بعد اس خاتون کو انھوں نے اس کے گاؤں کے قریب اتار دیا جہاں اس نے اپنے رشتہ داروں کو اس حملے کے بارے میں بتایا۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس خاتون کو کس حد تک زخم آئے ہیں یا کتنے نقصانات ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔