’پاکستان سے پہلے جیسے تعلقات جاری نہیں رہ سکتے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 15 جنوری 2013 ,‭ 14:21 GMT 19:21 PST
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ

منموہن سنگھ پر اس معاملے میں سیاسی جماعتوں کا خت دباو رہا ہے

بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر ہوئے واقعات کے بارے میں اپنے پہلے ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات اب پہلے جیسے نہیں رہ سکتے۔

کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کےفوجیوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے اور متنازع ہلاکتوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد بھارتی وزیراعظم کی جانب سے یہ پہلا بیان ہے۔

منموہن سنگھ نے کہا ’پاکستان کے ساتھ تعلقات اب پہلے جیسے رہ سکتے۔ جو لوگ اس کے لیے ذمہ دار ہیں انہیں سزا ملنی چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان اس بات کو سمجھےگا۔‘

بھارتی ذرائع ابلاغ نے لائن آ‌ف کنٹرول پر ہوئے واقعات پر مبنی خبروں کو بڑے اشتعال انگیز طور پر نشر کیا ہے لیکن حکومت کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا تھا۔

بھارتی وزیر اعظم نے اس موقع پر یہ اشارہ بھی کیا کہ حکومت اس مسئلے پر جلد ہی باقاعدہ بیان جاری کرے گی چنانچہ وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بھی منگل کی شام ایک پریس کانفرنس کی اور فوجیوں کے ہلاک ہونے کی سخت الفاظ میں مذت کی۔

انہوں نے کہا ’حکومت نے اس جارحانہ کارروائی کی سخت مذمت کی ہے اور پاکستانی فوج کے عمل کو مسترد کیا ہے۔ پاکستان کی حکومت سے اس ناقابل قبول واقعے کی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا ہے اور دوبارہ ایسی حرکت نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کرانے کو کہا گيا ہے۔‘

سلمان خورشید نے کہا کہ پاکستانی فوج کی جارحانہ کارروائي اور اشتعال انگیز اقدام بھارت کو یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا ’اس واقعے پر ہمارے بار بار کہنے کے باوجود بھی حکومت پاکستان نے سخت الفاظ میں اس کی تردید نہیں کی، بھارت میں پاکستان کی جانب سے مناسب جواب نہ دینے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور یہ تصور کرنا غلط ہوگا کہ اس واقعے سے دو طرفہ تعلقات متاثر نہیں ہونگے یا پھر پہلے جیسے رشتے برقرار رہیں گے۔‘

"اس واقعے پر ہمارے بار بار کہنے کے باوجود بھی حکومت پاکستان نے سخت الفاظ میں اس کی تردید نہیں کی، بھارت میں پاکستان کی جانب سے مناسب جواب نادینے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اور یہ تصور کرنا غلط ہوگا کہ اس واقعے سے دو طرفہ تعلقات متاثر نہیں ہونگے یا پھر پہلے جیسے رشتے برقرار رہیں گے۔''"

اس سے قبل پیر کو بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے کہا تھا کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج نے منظم انداز میں کارروائی کی تھی جس کا ’ہم اپنی پسند کے وقت اور اپنی پسند کی جگہ پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔‘

پیر کے روز ہی کئی سیاسی رہنماؤں نے متاثرہ فوجیوں کے لواحقین سے ملاقات کی تھی اور اس معاملے میں حکومت کے رویے پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔

اپوزیشن جماعت بی جے پی کی رہنما سشما سوراج نے کہا تھا کہ اگر بھارتی فوجی کا سر واپس نہیں آتا تو اس کے بدلے میں حکومت کو چاہیے وہ دس پاکستانی شہریوں کے سر کاٹ کر لائے۔

بھارت میں ان واقعات پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ایک بار پھر خراب ہوتے نظر آرہے ہیں۔

حالانکہ کسی بھی جانب سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی منسوخی کا مطالبہ سامنے نہیں آیا ہے لیکن پاکستانی ہاکی کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان حال میں ہوئے ویزے میں نرمی کے معاہدے پر عمل بھی پندرہ جنوری سے شروع ہونا تھا لیکن اسے بھی موخر کر دیا گيا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔